Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نصف صدی بعد انسان کی چاند پر واپسی کی تیاری، ناسا نے الٹی گنتی شروع کردی

نصف صدی بعد یہ نیا مشن خلائی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جارہا ہے۔

امریکا کی خلائی ایجنسی (ناسا) نے چاند پر انسان بھیجنے کے تاریخی مشن کی تیاری کے سلسلے میں عملی الٹی گنتی کا آغاز کردیا ہے۔

یہ دو روزہ مشق نئی قمری راکٹ میں ایندھن بھرنے سے پہلے کی جارہی ہے جسے ایک نہایت اہم مرحلہ قرار دیا جارہا ہے۔ اسی آزمائش کی بنیاد پر یہ فیصلہ ہوگا کہ چار خلا باز کب چاند کے گرد تاریخی پرواز کے لیے روانہ ہوں گے۔

مشن کے کمانڈر ریڈ وائزمین اور ان کے ساتھی پہلے ہی طبی احتیاطی تدابیر کے تحت قرنطینہ میں ہیں تاکہ کسی بھی بیماری سے محفوظ رہیں۔ یہ ٹیم 1972 کے بعد پہلی مرتبہ چاند کی جانب روانہ ہونے والی انسانی ٹیم ہوگی۔

خلا باز اس مشق کو فی الحال ہیوسٹن میں اپنے مرکز سے مانیٹر کریں گے اور راکٹ کو پرواز کے لیے محفوظ قرار دیے جانے کے بعد کینیڈی خلائی مرکز پہنچیں گے۔

تقریباً 322 فٹ بلند نیا قمری راکٹ دو ہفتے قبل لانچ پیڈ پر منتقل کیا گیا تھا۔ اگر پیر کے روز ایندھن بھرنے کا یہ تجربہ کامیاب رہا تو خلائی ایجنسی ایک ہفتے کے اندر لانچ کی کوشش کرسکتی ہے۔

اس مرحلے کے دوران راکٹ کے ٹینک میں سات لاکھ گیلن سے زائد نہایت ٹھنڈا ایندھن بھرا جائے گا تاہم انجن جلانے سے کچھ لمحے پہلے عمل روک دیا جائے گا۔

شدید سردی کی لہر کے باعث ایندھن بھرنے کی یہ مشق اور لانچ شیڈول دو دن مؤخر کرنا پڑا۔ اب آٹھ فروری کو لانچ کی ابتدائی ممکنہ تاریخ قرار دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق راکٹ کے اوپر نصب خلائی کیپسول کو گرم رکھنے کے لیے ہیٹرز استعمال کیے جارہے ہیں جبکہ سرد موسم سے نمٹنے کے لیے نظام میں مزید بہتری لائی گئی ہے۔

اس مشن کے دوران امریکی اور کینیڈین خلا باز چاند کے گرد گردش کریں گے اور بغیر رکے زمین کی جانب واپس آئیں گے، جہاں بحرالکاہل میں ان کی واپسی ہوگی۔ یہ مشن تقریباً دس دن پر محیط ہوگا۔

ماضی میں امریکا نے اپولو پروگرام کے تحت 1968 سے 1972 کے درمیان 24 خلا بازوں کو چاند پر بھیجا تھا جن میں سے 12 نے چاند کی سطح پر قدم رکھا۔

نصف صدی بعد یہ نیا مشن خلائی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جارہا ہے جسے آئندہ قمری اور مریخی منصوبوں کی بنیاد قرار دیا جارہا ہے۔