Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

روسی کمپنی کا کبوتروں کو ڈرونز میں بدلنے کا انوکھا دعویٰ

کبوتروں کے لیے یہ طریقہ بہت فائدے مند ہے کیونکہ وہ بیٹری کے بغیر 300 میل تک اُڑ سکتے ہیں

روس کی معروف نیوروٹیکنالوجی کمپنی نیری نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دماغی امپلانٹس کا استعمال کرتے ہوئے کبوتروں کو بایوڈرونز میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے یعنی اب انہیں دور سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

نیری کے مطابق ان امپلانٹس کے ذریعے کبوتروں کو اُڑنے اور مڑنے کے لیے سگنل بھیجے جاتے ہیں، اور ان کی پرواز کا راستہ جی پی ایس اور دیگر نیویگیشن طریقوں سے معلوم کیا جاتا ہے۔ ان پرندوں کو سولر بیگ اور کیمرے کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے تاکہ وہ نگرانی کے کاموں میں مدد دے سکیں۔

یہ تکنیک کسی بھی پرندے پر کام کر سکتی ہے، اور نیری کا کہنا ہے کہ کبوتروں کے علاوہ، وہ کوے، سیگلز اور البیٹروسز جیسے پرندوں کا بھی استعمال کر سکتے ہیں تاکہ زیادہ وزن اٹھایا جا سکے اور دور دراز علاقوں کی نگرانی کی جا سکے۔

جیسے کہ انفراسٹرکچر، صنعتی سائٹس کا معائنہ یا انسانوں کی امدادی مشنوں میں معاونت کرنا۔ اگرچہ ابھی تک اس حوالے سے خفیہ نگرانی اور فوجی استعمال کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ ڈرونز جیسا کہ بیان کیا گیا ہے، کام کرتے ہیں، تو پیوٹن کی حکومت انہیں فوراً استعمال کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: کبوتر کے بارے میں انتہائی دلچسپ باتیں

اس کمپنی کا کہنا ہے کہ کبوتروں کے لیے یہ طریقہ بہت فائدے مند ہے کیونکہ وہ بیٹری کے بغیر 300 میل تک اُڑ سکتے ہیں اور سخت موسمی حالات میں بھی کام کر سکتے ہیں۔

اگرچہ ابھی تک یہ ٹیکنالوجی تجارتی طور پر دستیاب نہیں ہے، تاہم مستقبل روسی حکومت اسے نگرانی اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو پائی کہ یہ پروجیکٹ جیسا بتایا جا رہا ہے، ویسا کامیاب ہوگا یا نہیں۔