صدیوں سے انسان یہ جاننے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ موت کے بعد کیا ہوتا ہے، مگر اب سوال بدل چکا ہے۔ کیا ممکن ہے کہ کوئی شخص دنیا سے رخصت ہونے کے باوجود سوشل میڈیا پر “زندہ” نظر آئے؟
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا اور حیران کن تصور سامنے آیا ہے۔ ایک بڑی ٹیک کمپنی نے ایسا پیٹنٹ حاصل کیا ہے جس کے تحت مصنوعی ذہانت کسی فرد کی آن لائن سرگرمیوں کو سیکھ کر اس کی ڈیجیٹل شخصیت تشکیل دے سکتی ہے۔
یعنی ماضی کی پوسٹس، تبصرے، لائکس اور پیغامات کی بنیاد پر اے آئی اس شخص کے اندازِ گفتگو، خیالات اور ردِعمل کی نقل تیار کر سکتی ہے۔
تصور کریں، اگر کوئی شخص اچانک اس دنیا میں نہ رہے تو بھی اس کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ اسی کے لہجے میں پوسٹ کرتا رہے، دوستوں کی باتوں پر ردعمل دیتا رہے اور گفتگو جاری رکھے۔
یہ ٹیکنالوجی بظاہر ان لوگوں کے لیے سہارا بن سکتی ہے جو کسی عزیز کے بچھڑنے کے بعد شدید خلا محسوس کرتے ہیں۔
اس رجحان کو ٹیکنالوجی کی زبان میں “گریف ٹیک” کہا جاتا ہے یعنی ایسی ڈیجیٹل سروسز جو مرحوم افراد کی یاد کو محفوظ رکھنے یا ان کی شخصیت کی جھلک برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اس میدان میں مائیکروسافٹ سمیت کئی کمپنیاں تجربات کر چکی ہیں، جہاں چیٹ بوٹس کے ذریعے مرحوم افراد جیسی گفتگو ممکن بنانے کی کوشش کی گئی۔
لیکن جہاں ٹیکنالوجی امکانات دکھاتی ہے، وہیں کئی سنجیدہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ کیا کسی انسان کی وفات کے بعد اس کی ڈیجیٹل شناخت کو فعال رکھنا اخلاقی طور پر درست ہے؟ کیا اس کے اہل خانہ کی اجازت ضروری ہوگی؟ اور اگر مصنوعی ذہانت کسی کے انداز کو مکمل طور پر نقل کر لے تو کیا ہم اصل اور نقل میں فرق کر سکیں گے؟
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک پیٹنٹ ہے اور فوری طور پر اسے عملی شکل دینے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ اکثر کمپنیاں مستقبل کے امکانات کو محفوظ رکھنے کے لیے ایسے حقوق حاصل کر لیتی ہیں، مگر ہر خیال حقیقت نہیں بنتا۔
تاہم یہ پیش رفت اس بات کی علامت ضرور ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف کام آسان بنانے تک محدود نہیں رہی، بلکہ انسانی یادوں، جذبات اور شناخت جیسے حساس پہلوؤں کو بھی چھو رہی ہے۔
شاید آنے والے برسوں میں موت صرف جسمانی حد تک محدود رہ جائے اور ڈیجیٹل دنیا میں کسی کی موجودگی کبھی مکمل طور پر ختم نہ ہو۔




















