عالمی سطح پر عمر کی تصدیق کے نظام کے نفاذ کے بعد سوشل پلیٹ فارم ڈسکارڈ شدید تنقید کی زد میں آگیا ہے۔
حالیہ دنوں کمپنی نے برطانیہ میں عمر کی جانچ سے متعلق ایک نوٹس جاری کیا جسے بعد میں ہٹادیا گیا۔ اس نوٹس میں ایک بیرونی ادارے پرسونا کے ذریعے آزمائشی مرحلے کا ذکر تھا جس پر صارفین نے شفافیت اور شناختی دستاویزات کے تحفظ سے متعلق سوالات اٹھائے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوا جب ایک سابق شراکت دار کے ہاں ڈیٹا لیک کے نتیجے میں تقریباً 70 ہزار صارفین کی سرکاری شناختی دستاویزات منظر عام پر آنے کی خبر سامنے آئی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ کمپنی کی جانب سے مزید سرکاری شناختی کارڈ جمع کرنے کا منصوبہ رازداری کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
کمپنی نے وضاحت کی کہ زیادہ تر صارفین سے شناختی کارڈ طلب نہیں کیا جائے گا بلکہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ویڈیو تصویر کے ذریعے عمر کا اندازہ لگایا جائے گا۔
تاہم اس طریقے نے بھی رازداری سے متعلق خدشات کو جنم دیا۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ غلط عمر کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے والوں کو اب بھی شناختی دستاویز جمع کرانا ہوگی۔
برطانیہ سے متعلق حذف شدہ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ جمع شدہ معلومات سات دن تک محفوظ رکھی جاسکتی ہیں۔ بعد ازاں کمپنی نے بتایا کہ آزمائشی مرحلہ مختصر تھا اور اب ختم ہوچکا ہے۔ پرسونا کے سربراہ نے بھی دعویٰ کیا کہ متعلقہ تمام ڈیٹا حذف کردیا گیا ہے۔
مزید برآں کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ پرسونا کا نظام انٹرنیٹ پر غیر محفوظ حالت میں دستیاب تھا اور اس میں چہرہ شناسی سمیت وسیع ڈیٹا جمع کیا جارہا تھا۔
انکشافات میں اوپن اے آئی کے نظام کے استعمال کا بھی ذکر کیا گیا تاہم ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
مجموعی طور پر یہ تنازعہ آن لائن رازداری اور صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کررہا ہے۔




















