چینی محققین نے دنیا کا سب سے چھوٹا اور انتہائی کم توانائی خرچ کرنے والا ٹرانزسٹر تیار کیا ہے جو مصنوعی ذہانت کے چپ ساز نظام کو تیز اور توانائی کی کم کھپت والا بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
پی کنگ یونیورسٹی کی ٹیم نے فیرو الیکٹرک فیلڈ افیکٹ ٹرانزسٹر میں گیٹ الیکٹروڈ کو صرف 1 نینو میٹر تک سکڑا دیا ہے جس کے نتیجے میں یہ انتہائی کم وولٹیج پر چل سکتا ہے اور توانائی کی کھپت روایتی فیرو الیکٹرک فیلڈ افیکٹ ٹرانزسٹر کے مقابلے میں تقریباً دس گنا کم ہے۔
اس ٹرانزسٹر کا ردعمل بھی بہت تیز ہے محض 1.6 نینو سیکنڈز میں یہ ٹرانزسٹر انسانی دماغ کی طرح کام کرتا ہے اور یادداشت اور حساب کتاب کو ایک ہی یونٹ میں جوڑ دیتا ہے جب کہ روایتی چپس میں یادداشت اور پروسیسنگ علیحدہ علیحدہ ہوتی ہیں جس سے کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
چین کے محقق چیو چینگوانگ اور پینگ لیان موائے نے بتایا کہ فیرو الیکٹرک فیلڈ افیکٹ ٹرانزسٹر کی یہ نئی ساخت مصنوعی ذہانت کے لیے جدید دماغ نما کمپیوٹنگ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
فیرو الیکٹرک فیلڈ افیکٹ ٹرانزسٹر کے روایتی چپز میں ڈیٹا لکھنے اور مٹانے کے لیے تقریباً 1.5 وولٹ درکار ہوتا تھا جب کہ جدید چپس عام طور پر 0.7 وولٹ سے کم وولٹیج پر چلتی ہیں۔ نئے ڈیزائن نے یہ فرق ختم کردیا ہے۔
یہ پیشرفت خاص طور پر اس وقت اہم ہے جب دنیا بھر کے ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی کھپت مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کم توانائی استعمال کرنے والے چپز سے بجلی کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
پی کنگ یونیورسٹی نے اس ڈیزائن پر پیٹنٹ بھی کروا لیا ہے اور یہ فی الحال لیبارٹری میں کامیاب تجربے کے طور پر موجود ہے۔
بڑے پیمانے پر پیداوار اور آزاد تصدیق ابھی باقی ہے لیکن اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے چپز میں انقلاب لانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔




















