Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چھوٹے طیاروں کیلئے نیا ہائبرڈ سسٹم متعارف

اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ اسے نئے جہاز بنانے کے بغیر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے

کینیڈا کی ایک کمپنی نے ایسا سسٹم تیار کیا ہے جو چھوٹے طیاروں کو ہائبرڈ یعنی (فیول) اور برقی طاقت کو ملا کر کام کرتا ہے۔

برقی موٹرز زیادہ طاقت، بہتر کارکردگی اور صفر اخراج  کی وجہ سے ہوائی جہازوں کے لیے ایک اچھا آپشن ضرور ہے تاہم اس کے کچھ مسائل بھی ہیں، اسی وجہ سے ابھی تک بجلی سے چلنے والے طیارے زیادہ تر چھوٹے، کم مسافر یا سامان لے جانے کے لیے ہی استعمال ہو رہے ہیں۔

ان کا سب سے بڑا مسئلہ توانائی کی گنجائش (Energy Density) ہے۔ عام انجن جو ایندھن استعمال کرتے ہیں، ان کے مقابلے میں بیٹریوں میں فی کلوگرام تقریباً 20 گنا کم توانائی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے برقی طیاروں میں زیادہ وزن بیٹریوں کا ہو جاتا ہے، جس سے ان کی پرواز کی حد عام طور پر 150 ناٹیکل میل تقریباً 278 کلومیٹر سے کم ہوتی ہے۔

جبکہ دوسرا بڑا مسئلہ بیٹریوں کے وزن کا ہے جو پورے سفر کے دوران یکساں رہتا ہے کم نہیں ہوتا۔

عام طیارہ جیسے جیسے ایندھن استعمال کرتا ہے، ہلکا ہوتا جاتا ہے جس سے اس کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ لیکن برقی طیارے کا وزن ٹیک آف سے لینڈنگ تک تقریباً ایک جیسا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بیٹریوں کو ٹھنڈا رکھنے اور انہیں چارج کرنے کے لیے زمین پر موجود انفراسٹرکچر بھی کسی چیلنج سے کم نہیں۔

اس کے باوجود برقی موٹرز کے کئی فائدے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان فائدوں کو کیسے استعمال کیا جائے بغیر طیارے کی کارکردگی کم کیے۔

یہ بھی پڑھیں: انٹرنیٹ کی رفتار میں انقلاب؛ دنیا کی پہلی آل فریکوئنسی 6 جی چپ تیار

اسی مقصد کے لیے Pratt & Whitney Canada، جو RTX کی ذیلی کمپنی ہے، Collins Aerospace اور کینیڈا کی حکومت کے ساتھ مل کر درمیانے سائز کے طیاروں کے لیے ہائبرڈ ٹربوپروپ انجن بنا رہی ہے۔

3 مارچ 2026 کو اس منصوبے نے ایک اہم کامیابی حاصل کی جب اس کے مکمل پروپلشن سسٹم اور بیٹریاں Longueuil, Quebec میں ٹیسٹ کے دوران پوری طاقت کے ساتھ کامیابی سے چلیں۔

جو لوگ گاڑیوں کے ہائبرڈ سسٹم سے واقف ہیں، جیسے Toyota Prius، ان کے لیے یہ نظام کچھ مختلف ہے۔ عام ہائبرڈ گاڑیوں میں انجن بیٹری چارج کرتا ہے اور پھر بیٹری الیکٹرک موٹر کو طاقت دیتی ہے۔ لیکن اس نئے طیارہ سسٹم میں ایسا نہیں ہے۔

اس میں Pratt & Whitney کے 1 میگاواٹ PW127XT ٹربوپروپ انجن کو Collins Aerospace کی 1 میگاواٹ الیکٹرک موٹر کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ ایک خاص گیئر باکس کے ذریعے دونوں ایک ہی وقت میں پروپیلر کو طاقت دیتے ہیں۔

اس کا فائدہ یہ ہے کہ ٹیک آف اور چڑھائی کے دوران الیکٹرک موٹر انجن کی مدد کرتی ہے، جس سے انجن کو زیادہ زور لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ پائلٹ ضرورت پڑنے پر 2 میگاواٹ تک طاقت حاصل کر سکتا ہے۔

جب طیارہ نیچے اترتا ہے تو یہی موٹر جنریٹر بن کر بیٹری کو دوبارہ جزوی طور پر چارج بھی کر سکتی ہے۔ اس سسٹم میں 200 کلو واٹ آور H55 بیٹری استعمال کی گئی ہے۔

اس منصوبے کا مقصد ایک ایسا انجن بنانا ہے جو ہلکا ہو، 30  فیصد کم ایندھن استعمال کرے اور جسے فیصد20 کم دیکھ بھال کی ضرورت ہو۔

اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ اسے نئے جہاز بنانے کے بغیر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق اسے موجودہ طیاروں میں بھی لگایا جا سکتا ہے، جس سے ایئر لائنز کو ماحول دوست بننے کے ساتھ ساتھ اخراجات کم رکھنے میں مدد ملے گی۔