ناسا نے اپنے تاریخی چاند کے فلائی بائی مشن، آرٹیمس II، سے پہلے اہم خطرے کے جائزے کو مکمل کر لیا ہے۔
ناسا نے اعلان کیا ہے کہ یہ مشن اب 1 اپریل شام 6:24 بجے کے قریب لانچ ہونے کا امکان ہے، جبکہ اگر تاخیر ہوئی تو اضافی چھ لانچ ونڈوز 2، 3، 4، 5، 6 اور 30 اپریل کو دستیاب ہیں۔
یہ جائزہ، جسے فلائٹ ریڈینیس ریویو (FRR) کہا جاتا ہے، دو دن جاری رہا اور اس میں یہ طے کیا گیا کہ راکٹ، اسپیس کرافٹ اور گراؤنڈ سسٹمز لانچ کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔
آرٹیمس II کے مینجمنٹ ٹیم کے چیئر، جان ہنی کٹ نے کہا کہ چونکہ یہ ناسا کے اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ کی صرف دوسری فلائٹ ہے، اس لیے اس مشن کے لیے ماضی کے اعداد و شمار کافی نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ درست شماریاتی اندازے لگانا مشکل ہے، مگر ٹیم نے احتیاطی اقدامات مکمل کر لیے ہیں۔
لارے گلیز، ناسا کی ایکٹنگ ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر نے بتایا کہ چار عملے کے ارکان رید ویزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن نے گھر سے ورچوئل طور پر جائزے میں حصہ لیا۔
مزید پڑھیں: ناسا کا 14 سال پرانا سیٹلائٹ آج زمین سے ٹکرائے گا
گلیز نے کہا کہ عملے کی موجودگی نے خطرات اور ان کے تدارک پر شفاف اور کھلی گفتگو کو یقینی بنایا۔ عملے نے خصوصی طور پر اورین اسپیس کرافٹ کے ہیٹ شیلڈ کے جائزے پر توجہ دی، جو زمین پر واپسی کے دوران ان کی حفاظت کرے گا۔
ناسا نے آرٹیمس I کے دوران شیلڈ میں پیدا ہونے والے مسائل کے بعد اس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے واپسی کے راستے میں تبدیلی کی منصوبہ بندی کی ہے۔
فلائٹ ریڈینیس ریویو میں کوئی اختلاف رائے سامنے نہیں آیا اور ٹیم نے ہیٹ شیلڈ کو محفوظ اور مشن کو لانچ کے لیے تیار قرار دیا۔ تاریخی طور پر، ناسا کے اس قسم کے جائزوں میں اکثر اختلافات اور بحث مباحثے دیکھنے کو ملتے تھے، لیکن اس بار تمام فریقین متفق رہے۔
گلیز نے کہا کہ خطرات کے تجزیہ اور ان کے تدارک کے لیے ہزاروں لوگوں کی انتھک محنت کی گئی ہے۔
تاہم، تکنیکی مسائل بھی زیر بحث آئے۔ SLS راکٹ میں لیک ہائیڈروجن کے مسائل اور ہیلیم کی ناکافی سپلائی جیسے چیلنجز سامنے آئے تھے۔ ان مسائل کی وجہ سے مارچ میں ممکنہ لانچ کی تاریخیں ملتوی ہو گئیں اور راکٹ کو لانچ پیڈ سے واپس ویہیکل اسمبلی بلڈنگ میں لایا گیا۔
ناسا نے بتایا کہ ہیلیم کا مسئلہ حل کر لیا گیا ہے اور راکٹ 19 مارچ کو واپس لانچ سائٹ پر پہنچے گا، جبکہ دوبارہ ویٹ ڈریس ریہرسل نہیں کی جائے گی تاکہ لانچ ونڈو برقرار رہے اور ٹینک کی زندگی بچائی جا سکے۔
یہ مشن ناسا کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، کیونکہ یہ انسانیت کے چاند کے قریب دوبارہ پہنچنے کے عمل کی تیاری کا حصہ ہے اور اس کے نتائج آئندہ کے خلائی مشنز کے لیے رہنمائی فراہم کریں گے۔



















