یونیورسٹی آف نیو میکسیکو اور لاس الاموس نیشنل لیبارٹری کے محققین نے ایک نیا کمپیوٹیشنل نظام تیار کیا ہے جو شماریاتی طبیعیات کے مشکل ترین مسائل میں سے ایک کو حل کرسکتا ہے۔ تھور اے آئی نامی یہ نظام ریاضی کے بڑے حساب کتاب کو چند سیکنڈوں میں مکمل کرلیتا ہے۔
یہ حساب کتاب اس لیے ضروری ہے کہ اس سے یہ پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ مختلف مادے گرمی، دباؤ اور دیگر حالات میں کیسا برتاؤ کریں گے۔ پچھلے سو سالوں سے سائنسدان ان کیلکولیشن کے لیے تخمینوں پر انحصار کرتے تھے۔
سائنسدان اس مسئلے کو ’’کنفیگریشنل انٹیگرل‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ اس میں ایٹموں کے درمیان تعاملات کو سمجھنا ہوتا ہے۔ جب متغیرات کی تعداد بڑھتی ہے تو حساب کتاب کی پیچیدگی تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق روایتی طریقوں سے یہ حساب کتاب کرنے میں کائنات کی عمر سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا تھا۔
تھور اے آئی کیسے کام کرتا ہے؟
تھور اے آئی اس مشکل مسئلے کو چھوٹے حصوں میں توڑ دیتا ہے۔ یہ ’’ٹینسر ٹرین کراس انٹرپولیشن‘‘ نامی ریاضیاتی حکمت عملی استعمال کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مادے میں موجود کرسٹل پیٹرن کو پہچان کر حساب کتاب مزید کم کردیتا ہے۔
محققین نے تھور اے آئی کو تانبے، انتہائی دباؤ میں موجود آرگن جیسی غیر فعال گیسوں اور ٹن کی پیچیدہ حالت پر آزمایا۔ ہر بار یہ نظام پہلے سے موجود جدید ترین تختیوں سے 400 گنا تیزی سے کام کرتا رہا۔
لاس الاموس کے سائنسدان اور اس تحقیق کے مرکزی مصنف ڈوک ٹرونگ کا کہنا ہے کہ تھور اے آئی نے ایک صدی پرانے تخمینوں اور نقلی عمل کو بنیادی اصولوں پر مبنی حساب کتاب سے بدل دیا ہے۔ یہ دریافتوں کی رفتار تیز کرے گا اور مادوں کی گہری سمجھ عطا کرے گا۔
محققین کا خیال ہے کہ یہ نظام مٹیریل سائنس، فزکس اور کیمسٹری میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔




















