بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگی کے بڑھتے رجحان کے ساتھ ایک نیا سائبر فراڈ بھی سامنے آیا ہے، جہاں دھوکہ باز جعلی کیو آر کوڈز کے ذریعے لوگوں کی رقم ہڑپ کر رہے ہیں۔
ماہرین نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ آسان ادائیگی کا یہی طریقہ اب خطرے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
دارالحکومت نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں رپورٹ ہونے والے واقعات کے مطابق، فراڈیے دکانوں پر لگے اصل کیو آر کوڈ کے اوپر جعلی اسٹیکر چپکا دیتے ہیں۔
جیسے ہی صارف اسے اسکین کرتا ہے، رقم براہِ راست دکاندار کے بجائے کسی نامعلوم اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتی ہے۔
بھارت میں چونکہ آج کل لوگ چھوٹی بڑی ہر خریداری کے لیے موبائل کے ذریعے فوری ادائیگی کو ترجیح دیتے ہیں، اس لیے جلد بازی میں تصدیق کیے بغیر پیسے بھیج دینا اس فراڈ کو مزید آسان بنا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس خطرے سے بچنے کے لیے چند سادہ احتیاطی تدابیر اپنانا ضروری ہے۔ ادائیگی سے پہلے کیو آر کوڈ کو غور سے دیکھیں اور یہ یقینی بنائیں کہ اس پر کوئی اضافی اسٹیکر یا کاغذ چسپاں نہ ہو۔
اسکین کرنے کے بعد اسکرین پر ظاہر ہونے والا نام لازمی چیک کریں، اور اگر نام مشکوک لگے تو فوری طور پر ادائیگی روک دیں۔
مزید یہ کہ جلد بازی سے گریز کرتے ہوئے ہر ٹرانزیکشن سے پہلے تفصیلات کی تصدیق کرنا نہایت ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تھوڑی سی احتیاط بڑے مالی نقصان سے بچا سکتی ہے اور آن لائن دھوکہ دہی کے بڑھتے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔



















