Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ناسا نے چاند کی زمین پر اسٹیشن بنانے کا فیصلہ کر لیا

یہ تبدیلی آرٹیمس پروگرام کے تحت اربوں ڈالر کے معاہدوں کو بھی متاثر کرے گی

ناسا نے اپنے چاند مشن میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے قمری مدار میں اسپیس اسٹیشن بنانے کا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے اور اس کی جگہ تقریباً 20 ارب ڈالر کی لاگت سے چاند کی سطح پر مستقل بیس تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادارے کے سربراہ نے واشنگٹن میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران بتایا کہ آئندہ سات برسوں میں چاند پر ایسا انفراسٹرکچر تیار کیا جائے گا جو طویل المدتی انسانی موجودگی کو ممکن بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ شکل میں لونار گیٹ وے منصوبے کو روک کر اب توجہ چاند کی سطح پر پائیدار آپریشنز پر مرکوز کی جا رہی ہے۔

لُونر گیٹ وے کو پہلے ایک ایسے اسپیس اسٹیشن کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا جو چاند کے گرد مدار میں رہتے ہوئے تحقیق اور خلا بازوں کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتا، جہاں سے وہ قمری سطح پر اترتے۔

رپورٹ کے مطابق اس منصوبے میں شامل کمپنیوں نارتھروپ گروم مین اور میکسر ٹیکنالوجیز کے تیار کردہ حصوں کو اب چاند کی سطح پر بیس بنانے کیلئے استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم یہ عمل تکنیکی طور پر پیچیدہ ہے۔

یہ تبدیلی آرٹیمس پروگرام کے تحت اربوں ڈالر کے معاہدوں کو بھی متاثر کرے گی، جبکہ امریکی خلائی ادارہ تیزی سے بدلتی عالمی دوڑ میں اپنی حکمت عملی کو نئے سرے سے ترتیب دے رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین بھی 2030 تک چاند پر انسان بھیجنے کے اپنے منصوبے پر تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے، جس سے خلائی مقابلہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔