Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ناسا کے خلاباز اچانک خلا میں بولنے سے قاصر؛ ڈاکٹرز بھی حیران

7 جنوری کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر خلاباز مائیک فنک اچانک بولنے سے قاصر ہوگئے تھے۔

ناسا کے خلاباز مائیک فنک نے انکشاف کیا ہے کہ وہ 7 جنوری کو رات کا کھانا کھانے کے بعد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اچانک بولنے سے قاصر ہوگئے تھے۔

چار مرتبہ خلائی مشن پر جانے والے 59 سالہ مائیک فنک کا کہنا ہے کہ اب بھی ڈاکٹر اس کی وجہ نہیں معلوم کرسکے ہیں کہ اس دن میں میں اچانک بولنے سے کیسے قاصر ہوگیا تھا۔

مائیک فنک کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ مکمل طور پر غیر متوقع تھا اور بہت تیزی سے پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں کوئی درد نہیں تھا لیکن وہ بول نہیں پارہے تھے۔ ان کے ساتھی خلابازوں نے فوری طور پر زمین پر موجود ڈاکٹروں سے رابطہ کیا۔

یہ واقعہ تقریباً 20 منٹ تک جاری رہا اور اس کے بعد وہ مکمل طور پر ٹھیک محسوس کرنے لگے۔ مائیک فنک نے بتایا کہ انہیں اس سے پہلے اور بعد میں کبھی ایسی کیفیت محسوس نہیں ہوئی۔

ڈاکٹروں نے دل کا دورہ ہونے کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ مائیک فنک کے مطابق وہ دم گھٹنے کا شکار بھی نہیں تھے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کیفیت خلا میں 549 دن گزارنے کے اثرات سے بھی منسلک ہوسکتی ہے۔

مائیک فنک کہتے ہیں کہ ان کی اس بیماری کے باعث خلائی چہل قدمی منسوخ کرنی پڑی اور تین ساتھی خلابازوں کو ایک ماہ سے زیادہ پہلے وطن واپس بلانا پڑا تھا جب کہ انہیں 15 جنوری کو اسپیس ایکس کے ذریعے زمین پر لایا گیا رگا۔

ناسا کے نئے ایڈمنسٹریٹر نے انہیں معافی مانگنے سے منع کردیا ہے۔ مائیک فنک کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی غلطی نہیں تھی بلکہ خلا کا اثر تھا اور انہوں نے کسی کو مایوس نہیں کیا۔

مائیک فنک نے بتایا کہ ناسا دوسرے خلابازوں کے طبی ریکارڈز کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ خلا میں اس سے ملتی جلتی کوئی کیفیت کسی اور کے ساتھ بھی پیش آئی ہو تاہم وہ مستقبل میں دوبارہ خلا میں جانے کی امید رکھتے ہیں۔