Site icon بول نیوز

کیا وینزویلا امریکی جارحیت کا مقابلہ کرسکتا ہے؟ فوجی طاقت جانیئے

کیا وینزویلا امریکی جارحیت کا مقابلہ کرسکتا ہے؟ فوجی طاقت جانیئے

کاراکس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑھے ہوئے جارحانہ بیانات سے یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ امریکا جلد یا بدیر وینزویلا پر حملہ کرسکتا ہے۔

اگرچہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے فضائی علاقے کو مکمل طور پر بند علاقہ قرار دیا ہے، لیکن انھوں نے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے، جبکہ پینٹاگون سے بھی مزید کسی قسم کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہے۔

واشنگٹن وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کی حکومت پر رفتہ رفتہ دباؤ بڑھا رہا ہے، جس میں کیریبین اور پیسفک میں مبینہ منشیات کے جہازوں پر امریکی حملے شامل ہیں جن میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: اگر خطرہ ہوا تو وینزویلا کے جنگی طیارے مار گرائے جائیں گے، صدر ٹرمپ

ایسے میں یہ دیکھنا ضروری ہوچکا ہے کہ آیا وینزویلا امریکی حملے کی صورت میں اپنا دفاع کیسے کرسکتا ہے یا کیسے وینزویلا امریکی جارحیت سے نمٹ سکتا ہے؟

وینزویلا کی فوجی صلاحیتیں:

امریکی فوج کے مقابلے میں وینزویلا کی فوج بہت چھوٹی اور کمزور ہے، جس کی وجہ تربیت کی کمی، کم تنخواہیں اور پرانا سازوسامان ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق عام فوجیوں کی تنخواہ صرف 100 ڈالر ماہانہ ہے، جو ایک خاندان کی بنیادی ضروریات کا پانچواں حصہ بھی نہیں۔

افسران کے متعدد اہلکار حکومت میں ہیں اور مادورو کے وفادار ہیں، لیکن عام فوجی اور دیگر اہلکار امریکی حملے کی صورت میں فرار یا عدم شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا وینزویلا کشیدگی ، ٹرمپ کے حکم پر جنوبی کیریبین میں امریکی بحری جہازتعینات

زیادہ تر فوجی تجربہ حالیہ برسوں میں سڑکوں پر پرامن مظاہرین کو کنٹرول کرنے تک محدود رہا ہے۔

فوجی سازوسامان میں روسی ساختہ لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹر، ٹینک اور شولڈر-فائر میزائل شامل ہیں جو امریکی جدید ہتھیاروں کے مقابلے میں پرانے اور ناکافی ہیں۔

ممکنہ ردعمل:

گوریلا جنگ:

امریکی میڈیا کے مطابق وینزویلا کی فوج امریکی فوج سے براہ راست لڑنے کی طاقت نہیں رکھتی، اس لیے وینزویلا کی فوج امریکی حملے کی صورت میں چھوٹے یونٹس میں تقسیم ہو کر 280 سے زائد مقامات پر پھیل سکتی ہے اور طویل گوریلا جنگ کا آغاز کرسکتی ہے۔

وینزویلا کا فوجی ساز و سامان انتہائی پرانا اور ناقص ہے، وینزویلا کا بہترین ہتھیار وہ میزائل ہیں، جو روس نے فراہم کیے ہیں، وینزویلا روسی ساختہ پانچ ہزار اگلا میزائل پہلے ہی بارڈر پر نصب کرچکا ہے۔

بدامنی پیدا کرنا:

اطلاعات کے مطابق، حکومت کی خفیہ ایجنسیاں اور مسلح حامی دارالحکومت کاراکاس میں بدامنی پیدا کر کے وینزویلا کو ناقابلِ انتظام بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

دیگر مسلح گروہ:

کولمبیائی گوریلا گروہ مغربی وینزویلا میں سرگرم ہیں۔

حکومتی حامی گروہ کولییکٹیوس (colectivos) کبھی کبھار مسلح موٹر سائیکل قافلوں میں مظاہرین سے ٹکرا جاتے ہیں۔ یہ گروہ بھی گوریلا جنگ میں حکومتی فورسز کا ساتھ نبھا سکتے ہیں۔

وینزویلا کی اپوزیشن، این جی اوز اور بعض امریکی و لاطینی امریکی حکومتیں مادورو اور فوج پر منشیات کے گروہوں کے ساتھ تعلقات کا الزام لگاتی ہیں۔

تاہم، حکومت اس کی تردید کرتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ امریکی مداخلت کا مقصد وینزویلا کے تیل کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

یہ تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ وینزویلا کا فوجی ردعمل گوریلا مزاحمت، بدامنی پیدا کرنا اور محدود ہتھیاروں کے استعمال تک محدود رہ سکتا ہے، جبکہ امریکی فوج سے براہِ راست مقابلہ وینزویلا کے لیے انتہائی مشکل ہو گا۔

Exit mobile version