واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے 901 ارب ڈالر کے دفاعی بل کی بھاری اکثریت سے منظوری دے دی۔
سینیٹ سے منظوری کے بعد یہ بل دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس بھیج دیا گیا ہے، وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بل پر دستخط کریں گے۔
یہ نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (NDAA) برائے مالی سال 2026 ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں پہلے منظور ہونے والے مسودوں پر سمجھوتے کے بعد تیار کیا گیا۔
مزید پڑھیں: امریکا: تیز ترین امیگریشن کے لیے 1 ملین ڈالر کا ٹرمپ گولڈ کارڈ متعارف
بل کے حق میں سینیٹ میں 77 کے مقابلے میں 20 ووٹ پڑے جبکہ ایوانِ نمائندگان نے گزشتہ ہفتے اسے 312 کے مقابلے میں 112 ووٹ سے منظور کیا تھا۔
دفاعی بل کے تحت سالانہ فوجی اخراجات کی حد 901 ارب ڈالر مقرر کی گئی ہے، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔
اس میں امریکی فوجیوں کی تنخواہوں میں 4 فیصد اضافہ، رہائش اور سہولیات میں بہتری، اور اسلحہ خریداری کے نظام میں اصلاحات شامل ہیں۔
بل میں چین اور روس کے ساتھ اسٹریٹجک مقابلے کی صلاحیت بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
بل میں صدر ٹرمپ کے بعض حالیہ مؤقف کے برعکس یورپ کی سیکیورٹی کے لیے اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
اس کے تحت یوکرین کے لیے 800 ملین ڈالر کی فوجی امداد رکھی گئی ہے، جو آئندہ دو برسوں میں ہر سال 400 ملین ڈالر فراہم کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: امریکا: براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ، 2 طلبہ ہلاک، 9 زخمی؛ ملزم کی تلاش جاری
یہ رقم یوکرین سیکیورٹی اسسٹنس انیشی ایٹو کے تحت امریکی کمپنیوں سے اسلحہ خریدنے پر خرچ ہوگی۔
اس کے علاوہ بالٹک سیکیورٹی انیشی ایٹو کی منظوری دی گئی ہے اور لٹویا، لیتھوانیا اور ایسٹونیا کے دفاع کے لیے 175 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
بل کے تحت یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعداد 76 ہزار سے کم کرنے پر پابندی ہوگی اور نیٹو میں امریکی کمانڈر کے عہدے سے دستبرداری بھی روکی گئی ہے۔
دفاعی بل میں شام کے سابق صدر بشار الاسد کے دور میں عائد کی گئی سخت سیزر پابندیوں کے خاتمے کی شق بھی شامل ہے۔
مزید برآں، اگر وزیر دفاع کانگریس کو وینزویلا سے متعلق فوجی کارروائیوں کی غیر ترمیم شدہ ویڈیوز فراہم نہ کریں تو ان کے سفری بجٹ کا ایک حصہ روکنے کی شق بھی رکھی گئی ہے۔
بل میں عراق کے خلاف 1991 اور 2002 کی فوجی کارروائیوں کی اجازت دینے والے قوانین (AUMFs) منسوخ کر دیے گئے ہیں تاکہ جنگ کے فیصلوں میں کانگریس کا کردار بحال کیا جا سکے۔
تاہم وزارتِ دفاع کا نام تبدیل کر کے ڈیپارٹمنٹ آف وار رکھنے کی تجویز اس بل میں شامل نہیں کی گئی۔
دفاعی بل میں بعض ثقافتی اور سماجی شقیں بھی شامل ہیں، جن کے تحت امریکی فوجی اکیڈمیوں میں خواتین کے کھیلوں میں ٹرانسجینڈر خواتین کی شرکت پر پابندی ہوگی۔
تاہم پینٹاگون میں تنوع، مساوات اور شمولیت (DEI) سے متعلق سابقہ ایگزیکٹو احکامات کو قانون کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔




















