اسلام آباد: افغان مہاجرین کو پرتشدد اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے نتیجے میں دنیا بھر سے ملک بدری کے اقدامات کا سامنا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق افغان مہاجرین کی جانب سے مختلف ممالک میں پرتشدد اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے واقعات کے بعد جرمنی اور ترکیہ سمیت متعدد ریاستوں نے ملک بدری اور سخت امیگریشن پالیسیوں پر عملدرآمد تیز کر دیا ہے۔
افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق افغان طالبان رجیم عالمی سطح پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جبکہ افغان مہاجرین بین الاقوامی سطح پر ہنگامہ آرائی، منشیات اسمگلنگ اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں، جس پر میزبان ممالک کو شدید تشویش لاحق ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان، غزہ، کشمیر، سی پیک 2.0 اور عالمی امور پر پاک چین مشترکہ اعلامیہ جاری
افغان جریدہ آریانہ نیوز کے مطابق جرمنی میں سخت امیگریشن پالیسی نافذ کر دی گئی ہے اور مختلف جرائم میں ملوث ایک اور افغان پناہ گزین کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔
جرمن میڈیا کے مطابق ملک بدر کیا جانے والا افغان مہاجر منشیات اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔
آریانہ نیوز کے مطابق 2025 کے دوران سنگین جرائم میں ملوث 83 افغان پناہ گزینوں کو جرمنی سے ملک بدر کیا جا چکا ہے۔
جرمن فارن نیشنلز رجسٹریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 11,888 رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کو جرمنی چھوڑنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ نے جرائم میں ملوث افغان مہاجرین سمیت تمام پناہ گزینوں کی واپسی کو ناگزیر قرار دیا ہے، جبکہ حکمران جماعت کریسٹین سوشل یونین نے بھی افغان مہاجرین کی فوری اور وسیع پیمانے پر ملک بدری کا مطالبہ کیا ہے۔
جرمنی کے ساتھ ساتھ ترکیہ میں بھی افغان مہاجرین کی مجرمانہ سرگرمیوں کے باعث کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
طلوع نیوز کے مطابق ترک حکام نے غیر قانونی نقل و حمل کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 32 افغان مہاجرین کو گرفتار کیا، جو ایک ٹینکر میں چھپ کر یورپی ممالک جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ترک امیگریشن اتھارٹی کے مطابق 2025 کے دوران 42 ہزار غیر قانونی افغان مہاجرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
افغان مہاجرین کی مبینہ دہشت گرد کارروائیوں کے باعث ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی امیگریشن اور اسپیشل امیگرنٹ ویزا ہولڈرز پر پابندیاں عائد کر چکی ہے۔
مبصرین کے مطابق افغان طالبان کی انتہاپسندی اور افغان مہاجرین کی پرتشدد سرگرمیاں پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔

















