ڈیووس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپ صحیح سمت میں نہیں جارہا ہے اور جب امریکا عروج پر ہوتا ہے تو دنیا بھی عروج پر ہوتی ہے۔
ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ ان کی صدارت میں امریکا کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے جب کہ بائیڈن کے دور میں ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں آئی تھی اور اقتصادی مسائل سنگین تھے۔
صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ امریکا دنیا کا معاشی انجن ہے اور جب امریکا عروج پر ہوتا ہے تو دنیا بھی ترقی کرتی ہے۔
یورپ پر تنقید
صدر ٹرمپ نے یورپ کی اقتصادی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپ صحیح سمت میں نہیں جا رہا، بائیں بازو کی قوتیں تقویت پکڑرہی ہیں، بڑھتے ہوئے سرکاری خرچ، ہجرت اور تجارتی پالیسیوں نے یورپ کو بدل دیا ہے۔
انہوں نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکا کی طرح اقتصادی اصلاحات کریں تاکہ توانائی کے بہترین وسائل اور کم بجلی کی قیمتیں حاصل کی جاسکیں۔
گرین لینڈ کی اہمیت پر زور
امریکی صدر نے گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ گرین لینڈ امریکا اور دنیا کی سیکیورٹی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا نے جنگ عظیم دوم کے دوران گرین لینڈ حاصل کیا اور نیٹو میں امریکا کے سوا کوئی ملک اس کی حفاظت نہیں کرسکتا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا نیٹو ممالک کی 100 فیصد حفاظت کرسکتا ہے اور گرین لینڈ حاصل کرنے کے لیے وہ صرف بات چیت چاہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے وینزویلا میں امریکی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے وینزویلا سے 50 ملین بیرل تیل حاصل کیا اور اب وہاں کی حکومت تعاون کر رہی ہے اور دیگر ممالک کو بھی ایسا کرنا چاہیے۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکا کی برتری، اسرائیل کے آئرن ڈوم کی ٹیکنالوجی اور عالمی سطح پر امن قائم کرنے کی کوششوں پر بھی زور دیا۔
پاک بھارت جنگ
صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صدارت میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ رکوائی گئی اور دنیا میں وہ آٹھ جنگیں ختم کرانے میں کامیاب ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکا کی سرحدیں مضبوط کیں اور عالمی سطح پر امن قائم کرنے میں مدد فراہم کی۔



















