اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں، تازی ترین حملوں میں تین صحافیوں سمیت 11 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق تازہ ترین اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 11 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جن میں دو بچے اور تین صحافی بھی شامل ہیں، جبکہ 6 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش کے مطابق شہید ہونے والے تینوں صحافی مصری امدادی کمیٹی برائے غزہ کے لیے کام کر رہے تھے اور وسطی غزہ میں ایک نئے قائم کیے گئے بے گھر افراد کے کیمپ کی دستاویز بندی کر رہے تھے۔
شہید صحافیوں میں انس غنیم، عبدالرؤف شعث اور محمد قشطہ شامل ہیں۔ حملے میں ایک اور شخص بھی شہید ہوا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں تباہ شدہ گاڑی دیکھی جا سکتی ہے۔
کمیٹی کے ترجمان محمد منصور نے بتایا کہ گاڑی اسرائیلی فوج کے علم میں تھی اور یہ حملہ اسرائیلی کنٹرولڈ علاقے سے تقریباً 5 کلومیٹر دور کیا گیا۔
اسرائیلی فوجی ریڈیو نے ایک سیکیورٹی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ گاڑی میں موجود افراد ڈرون کے ذریعے معلومات جمع کر رہے تھے۔
ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید
وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں ایک الگ حملے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد، جن میں ایک بچہ شامل ہے، شہید ہوئے۔
جنوبی غزہ میں بنی سہیلہ کے علاقے میں لکڑیاں جمع کرتے ہوئے 13 سالہ بچہ اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہوا، جبکہ خان یونس کے قریب 32 سالہ خاتون بھی گولی لگنے سے جان سے گئی۔
شمالی غزہ میں مزید دو فلسطینیوں کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔
جنگ بندی کی خلاف ورزیاں
فلسطینی حکام کے مطابق 10 اکتوبر سے نافذ امریکی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کی اسرائیل کی جانب سے بارہا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
اسرائیل غزہ میں خوراک، طبی امداد اور رہائشی سامان کی رسائی محدود رکھے ہوئے ہے، جہاں سرد موسم میں 22 لاکھ افراد شدید انسانی بحران کا شکار ہیں۔



















