واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر ممکنہ امریکی حملہ صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کا دائرہ اس سے کہیں وسیع ہو سکتا ہے، تاہم امید ہے کہ فوجی طاقت استعمال کرنے کی نوبت نہ آئے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاملات پر بات چیت جاری ہے اور امریکا سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے۔ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں اور تمام فریقین کسی نہ کسی حد تک جنگ بندی چاہتے ہیں۔
انکا کہنا ہے کہ امریکی نمائندے وٹکوف کی یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات مفید رہی ہے جبکہ روسی صدر اور امریکی نمائندوں کے درمیان بات چیت کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جمعرات کے روز 837 سزائے موت کے فیصلوں کو رکوا دیا۔ عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکا متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔
چین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ وہ اپریل میں چین کا دورہ کریں گے جبکہ چینی صدر بھی سال کے آخر میں امریکا کا دورہ کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر زیلنسکی دونوں جنگ بندی کے خواہاں ہیں اور اس سمت میں پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔



















