Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مقبوضہ کشمیر میں صحافت پر شب خون، مودی کی نام نہاد جمہوریت کا اصل چہرہ آشکار

عالمی صحافتی تنظیموں کی تشویش کے باوجود بھارت کی درندگی میں کوئی کمی نہیں آئی

مودی نے مقبوضہ کشمیر میں سچ بولنے والے صحافیوں کو تھانوں میں گھسیٹ کر خوف کی فضا مسلط کردی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں مساجد کے منتظمین کی معلومات جمع کرنے کی مہم کو منظم دباؤ قرار دیا اور کہا کہ مودی کے حکم پر مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو تھانے طلب کرنے پر شدید ردعمل کا سامنا ہے۔

برطانوی جریدے نے انکشاف کیا کہ مساجد کی پروفائلنگ کی خبر شائع کرنے پر سرینگر میں صحافیوں کو سائبر پولیس نے طلب کیا، صحافیوں پر بے جا پابندیوں سے مودی نے مقبوضہ کشمیر میں صحافت کو عملاً یرغمال بنا لیا۔

برطانوی جریدہ کے مطابق انڈین ایکسپریس کے صحافی بشارت مسعود کو حلفیہ بیان پر دستخط کیلئے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، ہندوستان ٹائمز کے نامہ نگار عاشق حسین کو بھی اسی خبر پر پولیس طلبی کا سامنا کرنا پڑا۔

بھارتی ارکان اسمبلی نے مقبوضہ کشمیر کے صحافیوں کو طلب کرنے کے عمل کو جمہوریت پر حملہ قرار دیا جبکہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو مسلسل دباؤ کا سامنا ہے، تاہم انسانی حقوق کی رپورٹنگ پر قید و بند، مودی کے اقتدار میں جمہوریت محض ایک دکھاوا رہ گئی۔

برطانوی جریدے نے بتایا ہے کہ فہد شاہ کے اخبار کشمیر والا کو بند کر کے انہیں سینٹرل جیل بھیجا گیا اور 21 ماہ بعد ضمانت ملی، گزشتہ سال جموں میں اخبار کی اشاعت معطل ہونے کے باوجود کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا۔

تاہم، عالمی صحافتی تنظیموں کی تشویش کے باوجود بھارت کی درندگی میں کوئی کمی نہیں آئی، مودی راج میں حقائق شائع کرنے پر صحافیوں کو پولیس کے ذریعے ہراساں کرنا فسطائیت کی مثال ہے۔