Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دنیا بھر میں کشمیری آج بھارتی یوم جمہوریہ بطور یوم سیاہ منارہے ہیں

آزاد کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں

بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں کشمیری آج بھارتی قبضے کے خلاف یومِ سیاہ منا رہے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یومِ سیاہ منانے کا مقصد عالمی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ بھارت کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ حقِ خود ارادیت دینے سے مسلسل انکار کر رہا ہے۔

کشمیری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارت جمہوری نہیں بلکہ ایک جارح ریاست ہے، جس نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر گزشتہ 78 برسوں سے غیرقانونی قبضہ جما رکھا ہے۔

یومِ سیاہ کے موقع پر مظفرآباد سمیت آزاد کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس، پاسبانِ حریت اور دیگر تنظیموں کے زیرِ اہتمام ریلیاں اور مظاہرے منعقد ہوں گے۔

ادھر بھارت نے یومِ جمہوریہ کے موقع پر مقبوضہ وادی کو مکمل طور پر فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا ہے۔ سیکیورٹی کے نام پر سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے، بڑی تعداد میں بھارتی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں جبکہ نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

مقبوضہ وادی میں گاڑیوں اور راہگیروں کی تلاشی کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے، سڑکوں کو خاردار تاروں اور رکاوٹوں سے بند کر دیا گیا ہے، ان اقدامات کے باعث کشمیری عوام کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں 5 لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں جبکہ گزشتہ 36 برسوں میں 96 ہزار 481 افراد آزادی کے مطالبے پر جان سے گئے، اس عرصے میں ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم اور 22 ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لیا گیا اور کھربوں روپے مالیت کی نجی املاک تباہ کی گئیں۔

کشمیری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جعلی ڈومیسائل قوانین کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یومِ سیاہ کے ذریعے کشمیری عالمی برادری سے مطالبہ کررہے ہیں کہ بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد پر مجبور کیا جائے اور کشمیری عوام کو آزادی دلائی جائے۔