خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری بیڑہ ابراہم لنکن بھی مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا ہے،
امریکی میڈیا کے مطابق کیریئر اسٹرائیک گروپ میں لڑاکا طیارے، میزائل کروزر اور ڈسٹرائر شامل ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم امریکی اتحادی فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا عروج پر ہوتا ہے تو دنیا بھی عروج پر ہوتی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
عرب میڈیا کے مطابق امریکی فوج نے خطے میں اپنی طاقت بڑھانے کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ امریکی فضائیہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی مشقیں بھی کرے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مشقوں سے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے جمعرات کے روز بحری بیڑہ ایران کی جانب روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد خطے میں تشویش کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔
جنگی جہاز سے فرق نہیں پڑتا، دفاع کیلیے تیار ہیں، ایران کا اعلان
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور امریکی جنگی جہاز کی آمد ایرانی قوم کے دفاع کو متاثر نہیں کرے گی۔
ترجمان کے مطابق ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا اور ملکی سلامتی و خودمختاری کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔


















