ترجمان وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی مزید 12 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد عوام کی حفاظت اور سڑکوں پر ممکنہ ہلاکتوں یا زخمی ہونے سے بچاؤ ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ منی سوٹا میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ امریکا کی سڑکوں پر لوگوں کے زخمی یا ہلاک ہونے کے منظر کو نہیں دیکھنا چاہتے، تاہم وہ منی سوٹا میں خطرناک غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
واضح رہے کہ منی سوٹا میں وفاقی اہلکاروں کے ہاتھوں 37 سالہ نرس ایلکس پریٹی کے ہلاک ہونے کے بعد امریکا میں احتجاج کی شدید لہر دیکھی جارہی ہے۔ یہ رواں ماں اپنی طرز کا دوسرا واقعہ تھا۔
لیویٹ نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ خطرناک اور مجرمانہ طرزعمل کے حامل غیر قانونی تارکین وطن کو ملک سے نکالا جائے اور وہ اس عمل میں تعاون کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
ترجمان کے مطابق منی سوٹا میں ڈیموکریٹ رہنما اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں اور اسے عوامی تحفظ کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ اور شدید سردی میں بھی سڑکوں پر بڑے مظاہرے کیے جارہے ہیں۔
لیویٹ نے سیاسی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ جیلوں میں موجود غیر قانونی تارکین وطن اور وہ افراد جن پر فعال وارنٹ ہیں یا جن کا مجرمانہ پس منظر ہے، فوری طور پر وفاقی حکام کے حوالے کیے جائیں۔
انہوں نے کانگریس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایسے قوانین ختم کرے جو کچھ شہروں میں غیر قانونی تارکین وطن کو محفوظ پناہ فراہم کرتے ہیں۔


















