Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بھارت سے خطے کو خطرہ، مہلک وائرس سرحدوں کی طرف بڑھنے لگا

پہلے پانچ ہیلتھ ورکرز متاثر ہوئے، جس نے بھارتی طبی نظام کی سنگین ناکامی ظاہر کر دی

بھارت ایک بار پھر مہلک وبا کے دہانے پر کھڑا ہے، جہاں نیپاہ وائرس نے کیرالہ اور مغربی بنگال کو مستقل وبائی مراکز بنا دیا ہے۔

خود بھارتی ڈاکٹر نے اعتراف کیا ہے کہ یہ وائرس اب ان ریاستوں میں جڑ پکڑ چکا ہے۔

آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے صدر ڈاکٹر نریندر کمار اروڑا کے مطابق مغربی بنگال میں حالیہ وبا کا آغاز اسپتالوں سے ہوا۔

پہلے پانچ ہیلتھ ورکرز متاثر ہوئے، جس نے بھارتی طبی نظام کی سنگین ناکامی ظاہر کر دی، ڈاکٹر اروڑا کا کہنا ہے کہ مزید 100 سے 200 افراد وائرس کی زد میں آنے کے خدشے کے باعث نگرانی میں ہیں۔

تاہم بھارتی حکام اب تک اصل صورتحال عوام سے چھپاتے دکھائی دے رہے ہیں، نیپاہ وائرس ایک انتہائی جان لیوا بیماری ہے جس میں اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک بتائی جا رہی ہے۔

متاثرہ شخص یا دماغی سوزش کا شکار ہوتا ہے یا شدید سانس کی بیماری سے جان کی بازی ہار دیتا ہے، تشویشناک بات یہ ہے کہ نیپاہ وائرس کے خلاف اب تک کوئی ویکسین موجود نہیں۔

بھارتی ڈاکٹر خود تسلیم کر رہے ہیں کہ علاج کے محدود ذرائع بھی آسانی سے دستیاب نہیں۔اس وائرس کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقلی بتائی جا رہی ہے۔

بھارت کے کئی علاقوں میں صفائی اور حفاظتی انتظامات کی بدحالی صورتحال کو مزید خطرناک بنا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ وبا دیگر ریاستوں اور سرحدی علاقوں تک پھیل سکتی ہے۔

بھارت کی صحت کی کمزور نگرانی پورے خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہے۔