افغان طالبان رجیم کےحمایت یافتہ دہشتگردوں نے خطے کوعدم استحکام کے دہانے پر لا کھڑا کردیا ہے۔
افغانستان سے سرحد پار دہشتگردی پرعالمی جریدہ یوریشیا کی بھی پاکستان کےموقف کی تائید کردی۔
امریکی جریدہ یوریشیا ریویو کے مطابق افغان طالبان رجیم صرف داخلی مسئلہ نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک سیکیورٹی خطرہ بن چکا ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں القاعدہ، ٹی ٹی پی سمیت 20 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔
اگر افغانستان سے پنپنے والی دہشتگردی سے پاکستان متاثر ہوا تو خطے کےدیگر ممالک بھی محفوظ نہیں رہیں گے، پاکستان صرف اپنے شہریوں کو نہیں بلکہ پورے خطے کو دہشتگردی سے محفوظ بنا رہا ہے۔
امریکی جریدہ کا کہنا ہے کہ اہم یہ نہیں کہ پاکستان اس حوالے سے کیا کررہا بلکہ دیکھنا یہ ہے دنیا افغان طالبان کی دہشتگردی کی روک تھام کیلئے کیا کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں میڈیا پرمٹ منسوخ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا شدید ردعمل
ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشتگرد تنظیموں کی سرپرستی دنیا بھر میں بے نقاب ہوچکی ہے، پاکستان متعدد بار دنیا کوافغان طالبان کی دہشتگردی سے متعلق مستند شواہد دے چکا ہے مگر افغان حکام کی ہٹ دھرمی اور انتہاپسندی برقرار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی برادری ادرا ک کرچکی ہے کہ پاکستان سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کے حوالے سے فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے، افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشتگردوں کی سرپرستی خطے میں عدم استحکام کاباعث اور امن کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔




















