تہران: ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی دھمکیوں کے آگے نہیں جھکے گا اور موجودہ صورتحال میں جنگ اور مذاکرات دونوں کیلئے تیار ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا کہ خلیج میں امریکا کی بڑھتی ہوئی فوجی تعیناتیوں کے بعد واشنگٹن کے ساتھ سفارت کاری کی کامیابی کا انحصار دھمکی آمیز رویے کے خاتمے پر ہے۔
ترکیہ کے دورے پر موجود ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ امریکا سے کسی بھی قسم کی ملاقات طے نہیں پائی۔
ادھر ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی بحری بیڑا خطرات کی زد میں ہے اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور تنصیبات ایرانی میزائلوں کی رینج میں ہیں۔
ترک وزیر خارجہ نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے دباؤ میں آ کر ایران پر کسی بھی قسم کے حملے سے گریز کرے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم دھمکیوں کے ماحول میں بات چیت ممکن نہیں ہوسکتی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات کا خواہاں ہے اور ایران کی جانب بڑھنے والا امریکی بحری بیڑا وینزویلا جانے والے بیڑے سے بھی بڑا ہے۔




















