بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیرِاعظم نریندر مودی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نامناسب اور شرمناک طرزِعمل اختیار کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے معاملے کی فوری وضاحت کا مطالبہ کردیا۔
بدنامِ زمانہ امریکی جنسی مجرم اور انسانی اسمگلر جیفری ایپسٹین سے منسوب ای میلز میں نریندر مودی کا نام سامنے آیا ہے جس نے بھارتی سیاست میں ہلچل مچادی ہے۔
ایپسٹین نے 9 جولائی 2017 کو ایک ای میل میں دعویٰ کیا کہ نریندر مودی نے اس سے مشورہ کیا اور امریکی صدر کی خوشنودی کے لیے اسرائیل میں مخصوص سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
ایپسٹین نے اپنی ای میل میں یہ بھی لکھا کہ یہ حکمتِ عملی ’’کامیاب رہی‘‘ جس پر کئی سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔
کانگریس کے مطابق ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیرِاعظم مودی نے 25 اور 26 جون 2017 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی جس کے بعد وہ 4 سے 6 جولائی 2017 کے درمیان اسرائیل کے دورے پر گئے۔
اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ایپسٹین نے یہ ای میل اسرائیل کے دورے کے محض تین دن بعد لکھی جس سے دونوں واقعات کے درمیان تعلق پر شکوک بڑھ گئے ہیں۔
کانگریس پارٹی نے مزید کہا کہ ایپسٹین کی ای میلز میں نریندر مودی اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ملاقات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ملاقات چند ہفتے قبل ہوئی تھی اور اسے “کامیاب” قرار دیا گیا۔ اپوزیشن کے مطابق ان تمام حقائق کو جوڑنے سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ مودی نے جون 2017 میں امریکہ میں ایپسٹین سے مشاورت کی اور بعد ازاں اسی مشورے کے تحت اسرائیل کا دورہ کیا۔
کانگریس نے ان الزامات کو بھارت کے قومی وقار اور بین الاقوامی ساکھ سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض سیاسی معاملہ نہیں بلکہ ریاست کی عزت سے وابستہ سنجیدہ مسئلہ ہے۔
اپوزیشن جماعت نے وزیرِاعظم سے سوال کیا ہے کہ وہ جیفری ایپسٹین سے کس نوعیت کے مشورے لے رہے تھے، اسرائیل میں ان سرگرمیوں کا مقصد کیا تھا اور اس سے امریکی صدر کو کیا فائدہ پہنچا۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ ایپسٹین کا یہ جملہ کہ ’’یہ کامیاب رہا‘‘ کئی تشویشناک پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کی وضاحت ناگزیر ہے۔
اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیرِاعظم نریندر مودی قوم کے سامنے واضح کریں کہ ان کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ کیا تعلق تھا اور ان الزامات کی حقیقت کیا ہے۔




















