اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ بھر میں جاری شدید بمباری کے نتیجے میں کم از کم 31 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والوں میں چھ بچے اور متعدد پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
طبی ذرائع کے خان یونس کے شمال مغرب میں واقع المواصی علاقے میں بے گھر افراد کے ایک خیمے پر اسرائیلی فضائی حملے میں تین بچوں سمیت کم از کم سات فلسطینی شہید ہوئے، جن کی لاشیں ناصر میڈیکل کمپلیکس منتقل کی گئیں۔
غزہ سٹی کے رمال محلے میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں بھی تین بچوں سمیت پانچ فلسطینی جان سے گئے، جبکہ الدرج محلے میں ایک اور بمباری میں آٹھ افراد زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیں: غزہ کا مکمل سیکیورٹی کنٹرول ، نیتن یاہو پھر دھمکیوں پر اتر آئے
اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے ادارے (UNRWA) کے سربراہ فلپ لازارینی نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ جنگ بندی صرف نام کی حد تک ہے اور غزہ کے عوام حقیقی جنگ بندی کے حقدار ہیں۔
مصر اور قطر نے بھی اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، خاص طور پر اتوار کو رفح کراسنگ کی متوقع جزوی بحالی کے تناظر میں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ تازہ حملے حماس اور اسلامی جہاد کے جنگجوؤں کے خلاف جوابی کارروائی تھے، تاہم حماس نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے حملوں کو کھلی جنگی جرم قرار دیا ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اب تک 524 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر اکتوبر 2023 سے اب تک شہدا کی تعداد 71 ہزار 600 سے تجاوز کر چکی ہے۔



















