امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو جوہری معاہدے پر حتمی فیصلہ کرنے کی ڈیڈ لائن اور ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں ایران نے امریکا کے ساتھ جوہری معاملے پر مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت کا عمل شروع کیا جائے۔
اس پیش رفت کی تصدیق ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز نے کی، جسے سرکاری اخبار ایران اور اصلاح پسند روزناموں نے بھی شائع کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ابھی تک مذاکرات کی تاریخ اور مقام طے نہیں ہو سکا، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق ابتدائی تیاریوں پر کام جاری ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا ہے کہ مذاکرات کے لیے طریقہ کار اور فریم ورک مرتب کیا جا رہا ہے، جسے جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ کئی نکات پر مشاورت جاری ہے اور امید ہے کہ سفارتی عمل کے اگلے مراحل جلد مکمل کر لیے جائیں گے، تاہم انہوں نے مذاکرات کے ایجنڈے یا تفصیلات سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی۔
دوسری جانب ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات رواں ہفتے ہی شروع ہونے کا امکان ہے۔
امریکی عہدیدار کے مطابق فریقین کے درمیان ممکنہ ملاقات کے لیے قطر، ترکیہ اور مصر سفارتی انتظامات کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان ممالک کی شمولیت سے واضح ہوتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری بات چیت میں ثالثی کا کردار قطر، ترکیہ اور مصر ادا کریں گے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کھل کر کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ فوجی تصادم سے بچنا چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی خبردار کیا تھا کہ اگر جوہری پروگرام پر ڈیل نہ ہوئی تو ایران کے پاس وقت تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔




















