چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، تاہم دونوں رہنماؤں کی گفتگو کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب عالمی سطح پر سیاسی و اسٹریٹجک صورتحال تیزی سے پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رواں سال اپریل میں چین کا متوقع دورہ بھی زیرِ غور ہے، جسے دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی صدر سے گفتگو سے قبل چینی صدر شی جن پنگ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات چیت کی تھی۔
کریملن کے مطابق روسی صدر نے چینی صدر کی جانب سے دورۂ چین کی دعوت قبول کر لی ہے، جو چین اور روس کے قریبی تعلقات کی مزید مضبوطی کی علامت ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے روسی صدر سے گفتگو کے دوران کہا کہ عالمی صورتحال تیزی سے ہنگامہ خیز ہو رہی ہے اور ایسے میں چین اور روس کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی طاقتوں کے طور پر چین اور روس کو عالمی اسٹریٹجک استحکام کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔
شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور روس عالمی برادری کو انصاف، مساوات اور اصولوں پر قائم رہنے کی ترغیب دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک دوسری جنگِ عظیم کے نتائج کے تحفظ کے پابند ہیں اور اقوامِ متحدہ کی مرکزیت پر مبنی عالمی نظام کا دفاع ناگزیر ہے۔
چینی صدر کا مزید کہنا تھا کہ چین اور روس بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ کردار ادا کرتے رہیں گے، تاکہ عالمی امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔


















