سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ایپسٹن کے حوالے سے اپنی گواہی عوام ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
کلنٹن جوڑے کا کہنا ہے کہ جفری ایپسٹین سے تعلقات کے حوالے سے ان کی کانگریسی گواہی عوامی ہونی چاہیے تاکہ ریپبلکن اس معاملے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کر سکیں۔
دونوں کلنٹن کو ہاؤس آف ریپریزینٹیٹیوز کی اوور سائٹ کمیٹی کے سامنے بند دروازوں کے پیچھے بیان دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ کمیٹی ایپسٹین کے طاقتور حلقوں سے تعلقات اور اس کے جرائم سے متعلق معلومات کی ہینڈلنگ کی تحقیقات کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: بل کلنٹن نے باتھ روم میں چیف جسٹس سے نواز شریف کی سزا سے متعلق کوئی بات نہیں کی، نسیم اشرف
بل کلنٹن نے کہا کہ بند کمرے میں بیان دینا کسی کینگرو کورٹ کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا، “آئیے کھیل بند کریں اور اسے درست طریقے سے کریں: عوامی سماعت میں۔”
ہلیری کلنٹن نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی کمیٹی کو وہ سب کچھ بتا دیا ہے جو وہ جانتی ہیں، اور اگر یہ تنازعہ چاہتے ہیں تو اسے عوامی طور پر نمٹائیں۔
اس سے قبل وزارت انصاف نے ایپسٹین فائلز جاری کیں جن میں 3 ملین سے زائد دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز شامل ہیں۔ بل کلنٹن اکثر فائلز میں دکھائی دیتے ہیں، تاہم کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جو کسی جرم میں ان دونوں کو ملوث ثابت کرسکے۔
سابق صدر نے اعتراف کیا کہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں کلنٹن فاؤنڈیشن کے انسانی ہمدردی کے کاموں کے لیے ایپسٹین کے طیارے پر سفر کیا، لیکن انہوں نے کبھی اس کا پرائیویٹ جزیرہ نہیں دیکھا۔
ہیلری کلنٹن نے بھی کہا کہ ان کا ایپسٹین کے ساتھ کوئی معنی خیز تعلق نہیں تھا، نہ انہوں نے اس کے طیارے پر سفر کیا اور نہ ہی جزیرہ دیکھا۔



















