ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ہمارے پاس جنگ اورسفارتکاری دونوں آپشن موجود ہیں فیصلہ امریکہ پرہے کہ وہ مذاکرات یاجنگ میں سے کون ساراستہ اختیارکرتاہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ سے جوہری مذاکرات کا اگلا دور ابھی طے نہیں ہوا، دونوں فریق چاہتے ہیں بات چیت جلدشروع ہو۔
ایرانی وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ مذاکرات کا طریقہ کارنہیں، ایجنڈااورسنجیدگی اہم ہے عمان میں ہونے والے مذاکرات صرف ایٹمی معاملے تک محدودتھے۔
ان کا کہنا تھا کہ یورینیم کی افزودگی ایران کا ناقابل تردیدحق ہے جسے بمباری سے ختم نہیں کیاجاسکتا ہمارے پاس جنگ اورسفارتکاری دونوں آپشن موجودہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے مذاکرات درست سمت میں جا رہے ہیں، امریکی صدر
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ نے حملہ کیا توخطے میں موجودان کے تمام فوجی اڈے ہمارا نشانہ ہوں گے امریکہ نے حملہ کیا توپوراخطہ جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔
ایرانی وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ میزائل پروگرام دفاعی معاملہ ہے جس پرکوئی سمجھوتا نہیں ہوگا اولین ترجیح جنگ سے بچاؤاورسفارتی حل ہے فیصلہ امریکہ پرہے کہ وہ مذاکرات یاجنگ میں سے کون سا راستہ اختیارکرتاہے۔

















