بنگلادیش میں جمعرات کے روز شہریوں نے ایک ساتھ دو اہم امور پر ووٹ ڈالا۔ ایک جانب نئی پارلیمنٹ کی تشکیل کے لیے عام انتخابات ہوئے جب کہ دوسری جانب ایک ریفرنڈم بھی کرایا گیا۔
یہ ریفرنڈم ’’جولائی چارٹر‘‘ کی منظوری سے متعلق تھا۔ یہ چارٹر 2024 میں طلبہ احتجاج کے بعد تیار کیا گیا تھا جس کا مقصد حکمرانی کے نظام، جمہوری ڈھانچے اور ادارہ جاتی اصلاحات کو یقینی بنانا اور مستقبل میں آمرانہ طرزِ حکومت کی واپسی کو روکنا تھا۔
شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت نے نومبر میں اس چارٹر کی منظوری دی تھی تاہم حکومت کا مؤقف تھا کہ اسے حتمی شکل دینے کے لیے عوامی تائید ضروری ہے۔ اسی لیے اسے ریفرنڈم کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔
بیلٹ پیپر پر ووٹرز سے چار بڑی اصلاحات پر ہاں یا ناں میں رائے لی گئی جن میں نئے آئینی اداروں کے قیام کی تجویز بھی شامل تھی۔
اس کے علاوہ چارٹر میں شامل 30 اصلاحات پر عمل درآمد سے متعلق نکات بھی زیر غور آئے جن میں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے مدت کی حد مقرر کرنا اور صدر کے اختیارات میں اضافہ جیسے اقدامات شامل ہیں۔
یوں بنگلادیش میں ایک ہی دن پارلیمانی نمائندوں کے انتخاب کے ساتھ ساتھ آئینی و انتظامی اصلاحات پر بھی عوامی رائے حاصل کی گئی۔
خیال رہے کہ بنگلادیش میں حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے عام انتخابات کا عمل مکمل ہوگیا ہے، سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی نے واضح اکثریت حاصل کرلی ہے۔
بنگلادیش الیکشن کمیشن کے مطابق بی این پی 209 نشستوں پر کامیاب ہوئی، جماعت اسلامی بنگلادیش 68 نشستوں اور نیشنل سٹیزن پارٹی 6 نشستوں پر کامیاب ہوسکی ہے۔


















