طارق رحمان بنگلادیش کے اگلے وزیرِ اعظم بننے کی راہ پر گامزن ہیں کیونکہ ان کی جماعت بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی نے عام انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل کرلی ہے۔
60 سالہ طارق رحمان ملک کے بااثر ضیاء خاندان کے نمایاں چہرے ہیں جس نے کئی دہائیوں تک بنگلادیش کے سیاست میں مرکزی کردار ادا کیا۔
ان کے والد ضیاء الرحمٰن فوجی حکمران سے صدر بنے اور 1978 میں جماعت کی بنیاد رکھی۔ وہ 1981 میں ایک فوجی بغاوت میں قتل کردیے گئے تھے۔
ان کی والدہ خالدہ ضیاء ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم رہیں اور دو ادوار میں حکومت سنبھالی۔ خالدہ ضیاء کے انتقال سے چند ہفتے قبل طارق رحمان جماعت کے سربراہ منتخب ہوئے۔
طارق رحمان نے اپنی والدہ کے دوسرے دور حکومت 2001 میں عملی سیاست کا آغاز کیا۔ 2002 میں انہیں جماعت میں اہم عہدہ دیا گیا جس پر مخالفین نے خاندانی سیاست کا الزام عائد کیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ وہ جماعتی نظم و ضبط قائم رکھنے والی سخت مزاج قیادت کے طور پر پہچانے گئے۔ ان پر بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات بھی لگتے رہے جن کی وہ ہمیشہ تردید کرتے آئے ہیں۔
2007 میں فوجی حمایت یافتہ عبوری حکومت کے دوران انہیں گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حراست کے دوران ان پر تشدد کیا گیا۔ تقریباً ڈیڑھ سال جیل میں گزارنے کے بعد وہ لندن منتقل ہوگئے اور طویل عرصے تک جلا وطنی کی زندگی گزارتے رہے۔
ملک سے باہر رہنے کے باوجود وہ جماعت کی حکمتِ عملی پر اثرانداز ہوتے رہے۔ 2018 میں ان کی والدہ کو سزا سنائے جانے کے بعد وہ قائم مقام سربراہ بن گئے۔
سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے دور میں ان کے خلاف کئی مقدمات قائم ہوئے جن میں ایک مہلک دستی بم حملے کا مقدمہ بھی شامل تھا تاہم بعد ازاں انہیں ان الزامات سے بری کردیا گیا۔
وہ 25 دسمبر 2025 کو وطن واپس آئے اور چند روز بعد ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ 9 جنوری کو وہ باضابطہ طور پر جماعت کے سربراہ منتخب ہوئے۔ مبصرین کے مطابق ان کی قیادت متوقع تھی تاہم خاندانی سیاست کا سوال دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل امتحان اب شروع ہوگا، کیا طارق رحمان اپنی جماعت کے رہنما سے بڑھ کر پورے ملک کے قائد بن سکیں گے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔



















