بھارت میں متنازع ترانے وندے ماترم کے استعمال اور اس کے سیاسی و سماجی اثرات پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے.
رپورٹس کے مطابق کچھ انتہا پسند ہندو تنظیمیں اس ترانے کو سیاسی شناخت اور قوم پرستی کے اظہار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر معاشرتی تقسیم بھی بڑھ رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت ٹاکرا؛ کولمبو کا موسم کیسا رہے گا، بارش کے کتنے امکانات ہیں؟
بھارتی اخبار دی اسٹیٹس مین کے مطابق اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بیان دیا ہے کہ وندے ماترم کی مخالفت کرنے والوں کے رویے پر سوال اٹھایا جانا چاہیے، جس پر مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا۔
اسی طرح انڈین ایکسپریس کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ کے بعض بیانات پر تنقید بھی کی جا رہی ہے، جبکہ چند روز قبل بابری مسجد سے متعلق ان کے بیان نے بھی سیاسی بحث کو ہوا دی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کے تناظر میں مذہبی و سیاسی بیانیے پر بحث جاری ہے، اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات ملک میں سماجی ہم آہنگی کے لیے اہم چیلنج بن سکتے ہیں۔


















