افغان مہاجرین کے غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں ان کے خلاف کاررائیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
افغانستان میں عدم استحکام اور شدت پسند عناصر کی موجودگی کے باعث مختلف ممالک میں افغان مہاجرین سے متعلق سیکیورٹی اور انتظامی خدشات بڑھ رہے ہیں، جبکہ ماہرین اسے علاقائی سلامتی کے لیے مسلسل چیلنج قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق طالبان کی سخت گیر پالیسیوں اور افغانستان کی غیر یقینی صورتحال کے باعث مہاجرین کی غیرقانونی نقل و حرکت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے کئی ممالک کو سیکیورٹی مسائل کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں: طالبان رجیم نے افغانستان کو اندرونی جبر اور سرحد پارعسکریت کے مرکز میں بدل دیا
ترک اور افغان میڈیا کے مطابق ترکیہ کے شہر ایڈرنے سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے 18 افغان مہاجرین کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، بعد ازاں انہیں ملک بدری کے لیے مائیگریشن مراکز منتقل کر دیا گیا۔
ترکیہ کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مائیگریشن مینجمنٹ کے مطابق گزشتہ سال 42 ہزار سے زائد غیرقانونی افغان مہاجرین کو حراست میں لیا گیا، جسے خطے میں بڑھتی غیرقانونی نقل مکانی کا اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب تک افغانستان میں پائیدار استحکام، مؤثر حکمرانی اور شدت پسند عناصر کا خاتمہ نہیں ہوتا، تب تک یہ بحران جاری رہنے کے ساتھ علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بنا رہ سکتا ہے، جبکہ پاکستان سمیت کئی ممالک غیرقانونی مہاجرین اور دہشتگردی کے خدشات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔



















