سعودی عرب نے عوام سے رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہادتیں متعلقہ اداروں کو جمع کرائیں۔
سعودی سپریم کورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہری اگر دوربین سے بھی چاند دیکھیں تو فوری طور پر قریبی عدالت یا متعلقہ سرکاری ادارے کو اطلاع دیں، جبکہ چاند کی رویت سے ہی تراویح کی نماز کے آغاز کی تاریخ کا تعین کیا جاسکے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ چاند نظر آنے یا نہ آنے کا باضابطہ اعلان آج مغرب کی نماز کے بعد کیا جائے گا، جبکہ آج شام عدالت کے خصوصی اجلاس میں چاند کی رویت کے نتائج پر غور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک کا چاند کب نظر آئے گا، سپارکو نے پیش گوئی کردی
واضح رہے کہ سعودی عرب میں چاند دیکھنے کے مرکزی رصدگاہیں سدیر اور تمیر میں واقع ہیں، اور ان مقامات سے موصول ہونے والی اطلاعات کو سرکاری فیصلے میں شامل کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عراق، شام، بحرین، یمن اور مصر سمیت پڑوسی ممالک کی اپنی رصدگاہیں موجود ہیں، تاہم وہ عموماً سعودی عرب کے فیصلے کی پیروی کرتے ہیں۔
دوسری جانب ترکی نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ رمضان المبارک 19 فروری 2026 سے شروع ہوگا۔ ترکی کے ادارہ برائے امورِ مذہب نے یہ فیصلہ فلکیاتی حسابات کی بنیاد پر کیا ہے۔ عمان نے بھی ترکی کی پیروی کرتے ہوئے 19 فروری کو رمضان کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
یہ دونوں ممالک بدھ 18 فروری کی رات سے تراویح کی نماز شروع کریں گے۔
تراویح کی نماز کیا ہے؟
تراویح رمضان المبارک میں ادا کی جانے والی ایک نہایت اہم اور مؤکدہ سنت نماز ہے، تاہم یہ فرض نہیں ہے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کے درمیان اس کی رکعات کی تعداد کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض 20 رکعات پڑھتے ہیں، کچھ 10 اور بعض 8 رکعات ادا کرتے ہیں۔
سعودی عرب نے اس سال تراویح کی رکعات کی تعداد 20 سے کم کر کے 10 کر دی ہے، جیسا کہ حرمین شریفین کے سرکاری سوشل میڈیا پیج پر اعلان کیا گیا۔




















