سعودی عرب نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے متنازع بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیانات بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
سعودی حکومت نے اس معاملے پر امریکی محکمہ خارجہ سے وضاحت طلب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بیان کی حقیقت اور اس کے پس منظر کو واضح کیا جائے۔
ادھر اسلامی تعاون تنظیم نے بھی امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسے اشتعال انگیز بیانات خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں اور عالمی امن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
سعودی عرب اور اسلامی تعاون تنظیم نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ سرزمین اسرائیلیوں کو دی گئی ہے اور پورے خطے پر قبضہ ان کا حق ہے۔




















