Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امریکی سفیر کے بیان پر او آئی سی کا 26 فروری کو ہنگامی اجلاس طلب

اجلاس میں اسرائیل کے غیرقانونی اقدامات پر غور کیا جائے گا اور خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے امریکی سفیر کے مبینہ اشتعال انگیز بیان کے بعد 26 فروری کو ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

او آئی سی کے مطابق اجلاس میں اسرائیل کے غیرقانونی اقدامات پر غور کیا جائے گا اور خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران اسرائیلی اقدامات کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بھی تیار کی جائے گی۔

تنظیم کا مؤقف ہے کہ اسرائیل فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کو کمزور کرنا چاہتا ہے، جس سے خطے میں امن کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی سفیر نے گزشتہ دنوں میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کی سرحدیں بائبل پر مبنی ہیں، اور جب دریائے فرات سے دریائے نیل تک کے حوالے کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل سب لے لے تو بھی ٹھیک ہوگا۔

مزید پڑھیں: استنبول میں او آئی سی وزرائے خارجہ کا خصوصی اجلاس، ایران اور غزہ پر جارحیت ناقابل قبول قرار

امریکی سفیر کے اس بیان کی پاکستان اور او آئی سی سمیت 14 ممالک نے شدید مذمت کی اور بیان کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔

مشترکہ اعلامیے میں پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، کویت، عمان، ترکیہ، سعودی عرب، بحرین، لبنان، شام اور فلسطین کے وزرائے خارجہ کے علاوہ او آئی سی، عرب لیگ اور  گلف تعاون تنظیم نے امریکی سفیر کے بیان پر گہری تشویش ظاہر کی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ایسے اشتعال انگیز بیانات اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ ریمارکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ وژن اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے سے متصادم ہیں، جس کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور فلسطینی عوام کے لیے آزاد ریاست کی راہ ہموار کرنا ہے۔

ممالک نے واضح کیا کہ اسرائیل کا مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی مقبوضہ عرب سرزمین پر کوئی حاکمیت نہیں۔ اعلامیے میں مغربی کنارے کے الحاق یا اسے غزہ سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش، نیز مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع کی شدید مخالفت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے تسلسل کو خطے میں مزید تشدد اور بدامنی کا سبب قرار دیتے ہوئے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

اعلامیے میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

متعلقہ خبریں