صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے احتجاج دیکھنے میں آیا، جس پر ایوان میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔
خطاب کے دوران رکن کانگریس ایل گرین نے احتجاج کیا، جس پر سارجنٹ ایٹ آرمز انہیں ایوان سے باہر لے گئے۔ اسی موقع پر مسلمان ارکان کانگریس الحان عمر اور رشدیہ طلیب نے بھی احتجاج ریکارڈ کرایا۔
صدر ٹرمپ نے خطاب کے دوران احتجاج کرنے والوں کو “پاگل” قرار دیا اور کہا کہ ان کی حکومت نے ایک سال میں ملک کو بدترین صورتحال سے نکال کر بہترین مقام پر پہنچا دیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکا سنہرے دور میں داخل ہو چکا ہے، سرحدیں محفوظ ہیں اور گزشتہ نو ماہ میں کوئی بھی شخص غیرقانونی طور پر امریکا میں داخل نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ فیصلے کی آڑ میں کھیلنے والوں کو سخت نتائج کا سامنا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں 18 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی جبکہ بائیڈن دور میں صرف ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی تھی۔ انہوں نے تیل و گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی اور ٹیرف کے ذریعے آمدنی میں اضافے کا بھی ذکر کیا۔
سپریم کورٹ کے ججز کی موجودگی میں صدر ٹرمپ نے ٹیرف سے متعلق عدالتی فیصلے کو مایوس کن قرار دیا تاہم کہا کہ اس کے باوجود ممالک ٹیرف دینے پر رضامند ہیں۔
خارجہ امور پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان اور بھارت ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ چکے تھے مگر امریکا نے مداخلت کر کے جنگ رکوائی۔ انہوں نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا، تاہم سفارتی حل کو ترجیح دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے انتخابی اصلاحات، ووٹر آئی ڈی کی لازمی شرط اور سیاسی تشدد کی مذمت پر بھی زور دیا، جبکہ اپنی دوسری مدت صدارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تیسری مدت بھی ہوسکتی ہے۔




















