Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مذاکرات سے قبل امریکا کا ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان

حزب اللہ کا انتباہ، ایرانی سپریم لیڈر کو نشانہ بنانا سرخ لکیر قرار

امریکا نے ایران کے ساتھ متوقع مذاکرات سے قبل مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 30 سے زائد افراد اور اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

برطانوی خبرایجنسی کے مطابق نئی پابندیاں درجنوں افراد اور اداروں کو نشانہ بنائیں گی، رپورٹ کے مطابق 30 سے زائد افراد اور اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ متعدد بحری جہازوں اور کمپنیوں پر بھی قدغن عائد کی گئی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور کمپنیاں ایران کی غیرقانونی پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور ترسیل میں ملوث ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران کی جنگ سے نمٹنے کے لیے تیاریاں، اعلیٰ سطح پر اختیارات منتقلی کا انکشاف

حکام کے مطابق یہ اقدامات ایران کی آمدنی کے ذرائع محدود کرنے اور پابندیوں کے نفاذ کو مؤثر بنانے کیلئے کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، تاہم نئی پابندیوں کے اعلان سے سفارتی عمل پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ جوہری مذاکرات کیلئے جنیوا پہنچ گئے

ایران اور امریکا کے درمیان متوقع جوہری مذاکرات کے سلسلے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور ایرانی وزیرخارجہ مذاکرات کیلئے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔

خبرایجنسی کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی جنیوا پہنچ گئے ہیں جہاں ان کی امریکی وفد کے ساتھ آج اہم ملاقات متوقع ہے۔ مذاکرات میں جوہری پروگرام اور باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں یہ بات چیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ دونوں فریقین کی جانب سے سفارتی ذرائع کو فعال کیا گیا ہے تاکہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھایا جا سکے۔

امریکی وزیرخارجہ کا ایران سے متعلق دوٹوک مؤقف، سفارتکاری پر زور

امریکا نے ایک بار پھر ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا ایران کا معاملہ سفارتکاری کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے اور یہ راستہ اب بھی کھلا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا  ہے کہ ایران طویل عرصے سے امریکا کے لیے ایک سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔

مارکو روبیو کے مطابق ایران فی الحال یورینیم کی افزودگی نہیں کر رہا، لیکن اس کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات سے انکار کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران بین البراعظمی بیلسٹک میزائل حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے، جو خطے اور عالمی امن کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

امریکی وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ سفارتکاری ہی ترجیحی راستہ ہے، تاہم مذاکرات سے گریز کی صورت میں صورتحال پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

حزب اللہ کا انتباہ، ایرانی سپریم لیڈر کو نشانہ بنانا سرخ لکیر قرار

حزب اللہ کے ترجمان نے ایران سے متعلق ممکنہ امریکی کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مخصوص حالات میں تنظیم کا مؤقف مختلف ہو سکتا ہے۔

ترجمان حزب اللہ نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران پر محدود حملے کرتا ہے تو حزب اللہ براہِ راست مداخلت نہیں کرے گی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا گیا تو اسے سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف سمجھا جائے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی کارروائی کے خطے پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور اس کے نتائج کی ذمہ داری حملہ کرنے والے پر عائد ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنظیم خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔