Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے، طالبان پر سرپرستی کے الزامات

صوبہ غزنی میں طالبان نے القاعدہ اور فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے لیے چار رہائشی کمپلیکس تعمیر کیے ہیں

افغانستان میں القاعدہ اور فتنہ الخوارج کے لیے محفوظ ٹھکانوں کی موجودگی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

افغان جریدے ہشت صبح کی رپورٹ کے مطابق صوبہ غزنی میں طالبان نے القاعدہ اور فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے لیے چار رہائشی کمپلیکس تعمیر کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مقامات پر بڑے مذہبی مدارس قائم کیے گئے ہیں اور مخصوص حفاظتی انتظامات بھی موجود ہیں۔

جریدے کے مطابق ان مراکز کو القاعدہ اور فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ طالبان کی زیرسرپرستی دہشت گرد عناصر سرگرم ہیں۔

مزید پڑھیں: بنوں میں خودکش حملہ، تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی حافظ گل بہادر گروپ سے جا ملے

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی مختلف رپورٹس میں بھی القاعدہ اور دیگر گروہوں کو طالبان کی سرپرستی حاصل ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ جریدے کے مطابق طالبان رجیم کے اقدامات سے خطے میں عدم استحکام بڑھا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے عالمی برادری کو دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔

ادھر پاکستان پاکستان متعدد بار عالمی برادری کو افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں سے متعلق شواہد کے ساتھ آگاہ کر چکا ہے۔ جہاں افغانستان میں امن و استحکام کے لیے علاقائی تعاون اور مؤثر حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔