روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے ایک اور خطرناک موڑ لے لیا، جب رات کی تاریکی میں یوکرین بھر میں ڈرونز اور میزائلوں کی گھن گرج سنائی دی۔
روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یوکرین کی عسکری صنعت کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر کارروائی کی، جسے ماسکو نے روسی سرزمین پر مبینہ حملوں کا “جوابی اقدام” قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ تمام مقررہ اہداف کامیابی سے تباہ کر دیے گئے۔
دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی کہ روس نے ایک ہی رات میں 420 ڈرونز اور 39 مختلف نوعیت کے میزائل فائر کیے، جن میں 11 بیلسٹک میزائل بھی شامل تھے۔
ان کے مطابق حملوں میں آٹھ خطے متاثر ہوئے، درجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔
اطلاعات کے مطابق پولتاوا، کیف اور دنیپرو کے علاقوں میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
چرنیہیف، زاپوریزہیا، خارکیف، کیرووہراد، وِنیتسیا اور دارالحکومت کیف میں امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور زخمیوں کو نکالنے میں مصروف رہیں۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ بیشتر میزائل فضائی دفاعی نظام نے مار گرائے، جو اتحادی ممالک کی جانب سے فراہم کیے گئے تھے، تاہم کچھ حملے کامیاب بھی رہے، جس سے نقصان ہوا۔ انہوں نے مزید دفاعی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
جنگی حالات کے باعث دونوں جانب سے کیے گئے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، تاہم تازہ حملے نے واضح کر دیا ہے کہ محاذ پر کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔
رات بھر سائرن بجتے رہے اور شہری پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور رہے، جب کہ صبح ہوتے ہی کئی شہروں میں تباہی کے مناظر سامنے آئے۔



















