امریکی صدر نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی سے متعلق بڑے دعوے کیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر حملہ نہ کیا جاتا تو وہ دو ہفتوں کے اندر جوہری ہتھیار تیار کر لیتا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں ایران کی 48 اہم شخصیات ماری جاچکی ہیں اور ایرانی قیادت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 9 ایرانی بحری جہاز تباہ کیے، کچھ ڈوبنے والے جہاز بڑے اور اہم تھے جبکہ باقی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور حملے میں ایرانی بحری ہیڈکوارٹرز کو نقصان پہنچایا گیا اور امریکی بحریہ ایران کے خلاف بہترین کام کر رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران میں سینکڑوں اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا جن میں فوجی تنصیبات اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مقاصد کے حصول تک فوجی کارروائی جاری رہے گی اور ایرانی رجیم کو کسی صورت نیوکلیئر ہتھیار تک رسائی نہیں دی جائے گی۔
امریکی صدر نے کہا کہ جنگ ایک ماہ تک جاری رہ سکتی ہے، تاہم وہ کسی چیز کے بارے میں فکرمند نہیں کیونکہ چیزیں ٹھیک چل رہی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن کی قیادت سے بات چیت ہوئی ہے، انھوں نے جنگ کے بعد ایران میں جمہوریت کے قیام کا دعویٰ بھی کیا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران بڑا اور مضبوط ملک ہے لیکن امریکا دنیا کا طاقتور ترین ملک ہے۔



















