Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسرائیلی حملوں میں 31 افراد جاں بحق، لبنانی وزیراعظم کی عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل

لبنانی وزیر اعظم کی اسرائیلی حملے رکوانے کے لیے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل

لبنان میں تازہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 31 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ اسرائیل نے کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی حملے رکوانے کے لیے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔

لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان، بیروت کے مضافات اور بقاع وادی کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ حملے اس وقت کیے گئے جب حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کی جانب راکٹ فائرنگ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے عسکری ٹھکانوں اور اہم کمانڈروں کو نشانہ بنایا ہے اور تنظیم کی جانب سے فائرنگ کے بعد مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔

فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان کی سرزمین سے اسرائیل پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق ہلاکتوں میں عام شہری بھی شامل ہیں جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بیروت کے جنوبی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان یہ جھڑپ وسیع علاقائی تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان بھی براہ راست کشیدگی جاری ہے۔

حزب اللہ کے اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے

قبل ازیں گزشتہ رات ایران کے حمایت یافتہ لبنانی گروپ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کے شہر حیفہ کے قریب ایک فوجی اڈے پر راکٹ اور ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد اسرائیلی طیاروں نے لبنان پر شدید بمباری شروع کردی ہے۔

حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ کارروائی ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی ہلاکت کے ردعمل میں اور لبنان اور اس کے عوام کے دفاع میں کی گئی ہے۔ گروپ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور قیادت کو نشانہ بنانے کے بعد اسے جواب دینے کا حق حاصل ہے۔

اسرائیل کا جوابی وار

اسرائیلی فوج نے فوری طور پر جنوبی بیروت، جنوبی لبنان کے متعدد دیہات اور بقاع وادی میں فضائی حملے کیے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بیروت میں حزب اللہ کے سینئر ارکان اور جنوبی لبنان میں ایک اہم شخصیت کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل نے جنوبی لبنان اور بقاع وادی کے 50 سے زائد دیہات، بشمول بنت جبیل، کے رہائشیوں کو گھروں سے انخلا کی ہدایت جاری کی اور کم از کم ایک کلومیٹر دور رہنے کا حکم دیا۔

اسرائیلی مؤقف کے مطابق حزب اللہ کا اقدام لبنان کو مزید تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے اور کشیدگی کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔

لبنانی حکومت کا ردعمل

لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے حزب اللہ کے حملے کو غیر ذمہ دارانہ اور مشکوک اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لبنان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور اسرائیل کو جارحیت جاری رکھنے کا بہانہ فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو نئی مہم جوئی میں نہیں گھسیٹا جائے گا اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

پس منظر اور علاقائی تناظر

2024 کی جنگ کے بعد حزب اللہ کو شدید نقصان پہنچا تھا اور اسرائیل نے اس کے کئی فوجی و سیاسی رہنماؤں کو ہلاک کیا تھا۔ نومبر 2024 میں فریقین کے درمیان جنگ بندی ہوئی، تاہم لبنان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل نے معاہدے کی بارہا خلاف ورزی کی اور تقریباً روزانہ حملے جاری رکھے۔

لبنان پہلے ہی شدید معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہے، اور موجودہ کشیدگی اس بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔

خطے میں امریکا اور اسرائیل ایک جانب جبکہ ایران اور اس کے اتحادی دوسری جانب کھڑے ہیں، جس سے وسیع علاقائی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں