اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے خطے میں طویل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سپریم لیڈر علی خامنائی کی شہادت کے بعد انتقام کو قومی فرض قرار دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایران کے پاس کون سی عسکری صلاحیتیں ہیں جو وہ اس تصادم میں استعمال کر سکتا ہے؟
ایران کا میزائل پروگرام: مرکزی ہتھیار
ماہرین کے مطابق ایران کا میزائل پروگرام مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا اور متنوع پروگرام سمجھا جاتا ہے۔ یہ بیلسٹک اور کروز میزائلوں پر مشتمل ہے، جو ایران کو جدید فضائیہ کے بغیر بھی طویل فاصلے تک حملے کی صلاحیت دیتا ہے۔
ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل 2,000 سے 2,500 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جس سے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈے ان کی زد میں آتے ہیں۔
قلیل فاصلے کے بیلسٹک میزائل (150–800 کلومیٹر)
یہ میزائل فوری اور قریبی اہداف کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اہم سسٹمز میں شامل ہیں:
فتح 110 اور اس کی اقسام (ذوالفقار وغیرہ)
قسام – 1
شہاب-1، شہاب 2
ایران نے جنوری 2020 میں عراق کے عین الاسد ایئربیس پر حملے میں اسی حکمتِ عملی کا استعمال کیا تھا، جب امریکا نے قاسم سلیمانی کو قتل کیا تھا۔
درمیانے فاصلے کے میزائل (1,500–2,000 کلومیٹر)
یہ میزائل ایران کو علاقائی سطح پر وسیع اہداف تک رسائی دیتے ہیں، ان میں درج ذیل میزائل شامل ہیں :
شہاب – 3
سجیل – ٹھوس ایندھن، تیز لانچنگ
خرم شہر
عماد
یہ میزائل اسرائیل سمیت قطر، بحرین، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امریکی تنصیبات تک پہنچ سکتے ہیں۔
کروز میزائل اور ڈرونز: کم بلندی کا خطرہ
کروز میزائل زمین کے قریب پرواز کرتے ہیں اور ریڈار سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران کے نمایاں کروز سسٹمز میں شامل ہیں:
سومار تقریباً 2,500 کلومیٹر رینج
ہوویز
پاویہ
ڈرونز کم لاگت اور بڑی تعداد میں استعمال ہو سکتے ہیں، جو فضائی دفاعی نظام کو تھکا دینے کی حکمت عملی کا حصہ بن سکتے ہیں۔
زیر زمین “میزائل سٹیز”
ایران نے برسوں سے اپنے میزائل ذخائر کو زیر زمین سرنگوں اور خفیہ اڈوں میں محفوظ رکھا ہے۔ اس سے دشمن کے ابتدائی حملوں کے بعد بھی ایران کی جوابی صلاحیت برقرار رہنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز اور بحری حکمت عملی
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ ایران اینٹی شپ میزائل، بارودی سرنگیں، تیز رفتار کشتیوں اور ڈرونز کے ذریعے بحری جہازرانی کو متاثر کر سکتا ہے۔
ایران نے “ہائپرسانک” سسٹمز جیسے فتح کا بھی دعویٰ کیا ہے، تاہم ان کی مکمل آپریشنل حیثیت پر عالمی سطح پر سوالات موجود ہیں۔
ایران کے اتحادی گروپس
ایران کے حمایت یافتہ گروپس جیسے حزب اللہ (لبنان) اور حوثی(یمن) بھی محاذ کھول سکتے ہیں، جس سے جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔
نتیجہ: محدود جھڑپ یا طویل جنگ؟
امریکا نے خطے میں بحری اور فضائی اثاثوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے طاقت کا توازن پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ایران کا پیغام واضح ہے کہ وہ کسی محدود حملے کو قبول نہیں کرے گا۔
آنے والے دن طے کریں گے کہ آیا یہ حملے باہمی جوابی کارروائی تک محدود رہتے ہیں یا ایک طویل علاقائی جنگ کی شکل اختیار کرتے ہیں۔




















