مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث خطے کی فضائی آمد و رفت شدید متاثر ہوگئی جبکہ خلیجی ممالک میں لاکھوں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ایران، عراق، اسرائیل، کویت، بحرین، قطر اور شام نے اپنی فضائی حدود اعلانیہ طور پر مکمل بند کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات، لبنان اور اردن کی فضائی حدود بھی پروازوں کے لیے مسلسل بند ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں دبئی اور ابوظہبی سمیت تمام ایئرپورٹس آج سہ پہر تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے باعث بین الاقوامی فلائٹس منسوخ یا موخر کر دی گئی ہیں۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے ترجمان کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کے لیے مکمل طور پر کھلی اور محفوظ ہے۔
تاہم فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ کے مطابق بعض ایئر لائنز پاکستان اور افغانستان کی فضائی حدود سے گریز کر رہی ہیں اور متبادل روٹس اختیار کر رہی ہیں۔
خلیجی ممالک کے لاکھوں مسافر شدید بحران کا شکار ہیں جبکہ متعدد طویل فاصلے کی پروازیں یورپ اور ایشیا کے درمیان نئے راستے اختیار کر رہی ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب کی فضائی حدود کھلی ہے اور ایئرپورٹس پر فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے۔ ترکیہ میں بھی فلائٹ آپریشن بحال کر دیا گیا ہے جبکہ ترکش ایئرلائنز کی پروازیں دور دراز کے متبادل روٹس استعمال کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو عالمی ایوی ایشن انڈسٹری کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی فضائی شیڈول طویل عرصے تک متاثر رہنے کا خدشہ ہے۔




















