مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے بیچ ایران کی طاقتور عسکری فورس اسلامک پاسداران انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے ایک چونکا دینے والا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
آئی آر جی سی کے سرکاری پلیٹ فارم ’’سپاہ نیوز‘‘ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ کارروائی میں مقامی سطح پر تیار کردہ ’’خیبر شکن‘‘ بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔
دعوے کے مطابق حملے میں نہ صرف وزیراعظم آفس بلکہ اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈ طوماربار کی رہائش گاہ کو بھی ہدف بنایا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ’’سرپرائز اسٹرائیک‘‘ غیر متوقع انداز میں کی گئی، جبکہ نیتن یاہو کی حالت یا ممکنہ نقصانات سے متعلق تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مزید معلومات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔
خیبر شکن کیا ہے؟
ایران نے ’’خیبر شکن‘‘ میزائل کی رونمائی مئی 2023 میں کی تھی۔ سرکاری دعووں کے مطابق اس بیلسٹک میزائل کی رینج تقریباً 2000 کلومیٹر ہے اور یہ ڈیڑھ ٹن تک وزنی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جسے ایرانی دفاعی صنعت کی اہم پیش رفت قرار دیا جاتا ہے۔




















