Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

لبنان پر شدید اسرائیلی حملوں میں 52 شہید، ہزاروں افراد کی نقل مکانی

حزب اللہ کی فوجی سرگرمیوں پر فوری پابندی کا فیصلہ حتمی ہے، صدر عون

لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد ہزاروں افراد نے شام کی سرحد کا رخ کر لیا، جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق کم از کم 30 ہزار بے گھر افراد شیلٹرز میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے ترجمان بابر بلوچ کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان پیر سے شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد کم از کم 30 ہزار افراد نے لبنان میں قائم عارضی پناہ گاہوں میں تحفظ حاصل کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے افراد نے سڑک کنارے گاڑیوں میں رات گزاری یا ٹریفک جام میں پھنسے رہے۔

مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، حزب اللہ

ادھر حزب اللہ کے سینئر عہدیدار محمود قماطی نے کہا ہے کہ حالیہ حملوں کے بعد گروپ کے پاس مزاحمت کی طرف واپسی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ ان کے مطابق اسرائیل کھلی جنگ چاہتا ہے تو اب صبر کا دور ختم ہو چکا ہے۔

حزب اللہ کی فوجی سرگرمیوں پر فوری پابندی کا فیصلہ حتمی ہے، صدر عون

دوسری جانب لبنان کے صدر مائیکل عون نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے حزب اللہ کی فوجی سرگرمیوں پر فوری پابندی کا فیصلہ حتمی ہے اور اس میں کوئی واپسی نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ کے فیصلے کے تحت حزب اللہ کو اپنے ہتھیار ریاست کے حوالے کرنا ہوں گے اور جنگ و امن کا اختیار صرف حکومت کے پاس ہوگا۔

صدر عون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ اقدام لبنانی ریاست کے اس حق کو محفوظ بنائے گا کہ جنگ اور امن کا فیصلہ صرف ریاست کرے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب حزب اللہ نے ایران کے خلاف اسرائیل-امریکا جنگ کے ردعمل میں اسرائیل پر راکٹ داغے، جس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے تیز کر دیے۔

اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک لبنان بھر میں کم از کم 52 افراد کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث انسانی بحران کے خدشات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں