امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف صدر ٹرمپ کے فوجی کارروائی کے اختیارات کو محدود کرنے کی قرار داد مسترد کردی ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی سینیٹ میں ایک ایسی قانون سازی کی تجویز مسترد کر دی گئی ہے، جس کا مقصد صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اختیارات کو کانگریس کی منظوری کے بغیر محدود کرنا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تجویز سینیٹ میں ووٹنگ کے لیے پیش کی گئی، تاہم اسے منظوری کے لیے درکار حمایت حاصل نہ ہو سکی۔اور قرارداد ووٹنگ میں 53 کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے ناکام ہو گئی۔
مجوزہ اقدام کا مقصد صدر کے اختیارات پر مزید پارلیمانی نگرانی قائم کرنا تھا، خاص طور پر ایران کے ساتھ ممکنہ فوجی تصادم کے تناظر میں۔ لیکن رپورٹ کے مطابق سینیٹ کے فیصلے کے بعد موجودہ صورتحال برقرار رہے گی، جس کے تحت صدر کو فوجی کارروائی کے حوالے سے وہی صوابدید حاصل رہے گی۔
امریکا اور اسرائیل کی ایران پر بمباری جاری، پانچ روز میں 1045 ایرانی شہری شہید
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں ہفتے سے اب تک کم از کم 1,045 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی افواج نے لبنان میں بھی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
سرحدی سکیورٹی کو مضبوط بنانا ضروری ہے، عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ملک کی سرحد پر، خاص طور پر عراق کے ساتھ ملحق علاقوں میں دہشت گرد تحریکوں کی موجودگی کے خدشات موجود ہیں۔
انہوں نے سرحدی سکیورٹی مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے، ایسے وقت میں جب رپورٹس کے مطابق امریکا کرد فورسز کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے تاکہ انہیں مسلح کیا جا سکے اور تہران کے خلاف بغاوت کی کوششوں کو تقویت دی جا سکے۔
اسی تنازع کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، کیونکہ جہازوں نے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے سے گریز شروع کر دیا ہے۔ ایرانی انقلابی گارڈ کور کی جانب سے اس کی بندش کے اعلان کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
حملوں سے ایران جوہری پروگرام میں پیچھے ہٹ گیا، ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں کئی ایرانی رہنما مارے جا چکے ہیں اور اس سے ایران کا جوہری پروگرام کافی پیچھے چلا گیا ہے۔
گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اس وقت ایران کے معاملے پر مضبوط پوزیشن میں ہے اور ایرانی میزائلوں اور لانچرز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کارروائی نہ کی جاتی تو ایران کے پاس جلد ایٹمی ہتھیار موجود ہوتے اور ان کے بقول حملوں کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ سابقہ جوہری معاہدہ ناکافی تھا، اور انہوں نے اقتدار میں آتے ہی اپنی افواج کو مضبوط بنانے پر توجہ دی۔ ان کے مطابق انہوں نے چار سال قبل ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کیا تھا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وینزویلا میں کیے گئے اقدامات کے بعد صورتحال بہتر ہوئی ہے اور وہاں تیل سے متعلق معاملات میں پیش رفت ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنی افواج پر فخر کرتے ہیں اور ان کے بقول حالیہ کارروائیوں نے خطے میں طاقت کا مؤثر مظاہرہ کیا ہے۔
امریکی لڑاکا طیارے گرانے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے دعوے جھوٹ ہیں، امریکی سینٹرل کمانڈ
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں اور لڑاکا طیاروں کو گرانے کے مختلف دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔
سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایرانی حکومت کی جانب سے جاری بیانات حقائق کے منافی اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی لڑاکا طیارے گرانے اور 100 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے دعوے غلط ہیں۔
سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کے انخلا، امریکی بحری بیڑے اور طیارے تباہ کرنے سے متعلق دعوے بھی حقیقت کے برعکس ہیں۔ سینٹ کام کے مطابق امریکی فورسز ہر گھنٹے کے حساب سے ایرانی فضائی حدود میں حملوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی، زمینی اور بحری طاقت کے ذریعے 20 سے زائد ایرانی طیارے اور دیگر عسکری اہداف تباہ کیے جا چکے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق گزشتہ چار دنوں کے دوران ایرانی ڈرون لانچز میں 73 فیصد جبکہ بیلسٹک میزائل لانچز میں 86 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
سینٹ کام نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج کی طاقت اور آپریشنل صلاحیت کا کوئی مقابلہ نہیں۔
ایران کے 20 بحری جہازوں کو تباہ کردیا، ترجمان وائٹ ہاؤس
کیرولین لیویٹ نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ امریکا کے خلاف تمام خطرات کو ختم کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں اور امریکی شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق ایران کے 20 بحری جہازوں کو تباہ کیا گیا ہے، انھوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ صرف دھمکیاں نہیں دیتے بلکہ عملی اقدامات کرتے ہیں۔
کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ امریکیوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری ہیں اور اب تک 5 ہزار سے زائد امریکی شہریوں کو واپس لایا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق شہری چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے بھی امریکا واپس آ سکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اہداف کے حصول تک آپریشن فیوری جاری رہے گا اور صدر ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات سے اتحادی ممالک کو فائدہ ہوگا۔ ترجمان کے مطابق امریکی بحریہ جلد آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کی حفاظت شروع کرے گی اور امریکا ایران کو اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول نہیں کرنے دے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی قیادت کے خلاف کارروائی کی ہے اور ایران کی قیادت پر ہزاروں امریکیوں کی ہلاکت میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق ایران نے امن کا راستہ اختیار کرنے سے انکار کیا اور مذاکرات کو طول دے کر جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کی، جبکہ امریکا کی پیشکش کو بھی رد کیا گی
امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہری مراکز اور تاریخی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، ایران
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے اور متعدد شہری مقامات متاثر ہوئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق گزشتہ پانچ دنوں کے دوران ہونے والے حملوں میں شہری مراکز اور تاریخی مقامات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ جنوبی شہر میناب کے ایک پرائمری اسکول کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسماعیل بقائی کے مطابق تہران کے نیلوفر اسکوائر پر حملے میں 20 سے زائد معصوم شہری مارے گئے، جبکہ گاندھی اسپتال، تہران گرینڈ بازار اور ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے اطراف بھی حملے کیے گئے۔
ترجمان نے بتایا کہ مطہری، ولی عصر، ٹراما اور برن اسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ آمنہ چلڈرن اسپتال اور شاہید رجائی اسپتال پر بھی حملوں کی اطلاعات ہیں۔
ان کے مطابق مغربی ایران میں رہائشی کمپلیکس کے ساتھ ابوذَر اسپتال اور بقائی اسپتال پر حملے کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایران کے شہر میناب میں ابوالفضل اسپتال کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ چابہار اور ہمدان میں ایمرجنسی میڈیکل مراکز پر بھی حملے ہوئے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق صوبہ فارس کے شہر لامرد میں ایک اسپورٹس ہال پر حملے کے نتیجے میں 18 بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ مرکزی ایران میں حملوں کے دوران 35 معصوم شہری مارے گئے۔




















