Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری؛ ہزاروں افراد لاپتہ

اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں صرف سال 2023 کے دوران 7,151 افراد کو لاپتہ قرار دیا گیا ہے۔

سری نگر: مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تاحال جاری ہیں جس دوران ہزاروں افراد کو لاپتہ کردیا گیا ہے۔

راجیہ سبھا میں باضابطہ طور پر پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق بھارتی کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صرف سال 2023 کے دوران 7,151 افراد لاپتہ قرار دیے گئے۔

ان میں سے 2,961 افراد کو اسی سال کے اندر تلاش یا بازیاب کرلیا گیا جب کہ 4,190 افراد سال 2023 کے اختتام تک بدستور لاپتہ رہے۔

یہ قیاس آرائی پر مبنی اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ وہ اعداد ہیں جو خود بھارت کے پارلیمانی نظام میں تسلیم کیے گئے ہیں۔ گزشتہ چار برسوں کا رجحان مسلسل اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

2020 میں آئی آئی او جے کے میں 5,824 افراد لاپتہ رپورٹ ہوئے۔ 2021 میں یہ تعداد بڑھ کر 6,486 ہوگئی جب کہ 2022 میں یہ مزید بڑھ کر 6,983 تک پہنچ گئی اور 2023 تک یہ تعداد 7,151 ہوگئی۔

اسی دوران لاپتہ رہ جانے والے افراد کی تعداد 2020 کے اختتام پر 3,813 سے بڑھ کر 2023 کے اختتام تک 4,190 ہوگئی۔ چار برسوں میں حل نہ ہونے والے لاپتہ افراد کے کیس کم نہیں ہوئے بلکہ بڑھے ہیں۔

یہ صورتحال جوابدہی سے متعلق بنیادی سوالات اٹھاتی ہے۔ جب ایک بھاری عسکری موجودگی والے خطے میں ہر سال ہزاروں افراد لاپتہ ہو رہے ہوں اور لاپتہ افراد کی زیر التوا تعداد کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہو تو ادارہ جاتی ذمہ داری ایک مرکزی مسئلہ بن جاتی ہے۔

اس کے باوجود اعداد و شمار کے حجم کے مطابق شفاف اور خودمختار تحقیقات یا مؤثر عدالتی نگرانی کے شواہد کم دکھائی دیتے ہیں جب کہ اتنا ہی اہم پہلو عالمی ردعمل کی کمزوری ہے۔

بڑے مغربی ممالک بھارت کے ساتھ تجارت، دفاعی تعاون اور اسٹریٹجک شراکت داری کو ترجیح دیتے رہتے ہیں۔ انسانی حقوق کے خدشات کا ذکر تو کیا جاتا ہے لیکن انہیں مستقل سفارتی دباؤ کے ذریعے آگے نہیں بڑھایا جاتا۔

نتیجہ واضح ہے کہ لاپتہ افراد کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار اور معاشی تعلقات میں وسعت ساتھ ساتھ چل رہے ہیں جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر کشمیری جانوں کو محدود اہمیت دی جارہی ہے۔