مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ساتویں روز بھی شدت اختیار کرگئی ہے، ایران نے کلسٹر بموں سے لیس خیبر شکن میزائل کے ذریعے تل ابیب کو نشانہ بنایا جبکہ امریکا نے ایرانی بیلسٹک میزائل کے ذخائر تباہ کرنے اور 30 ایرانی بحری جہاز ڈبونے کا دعویٰ کیا ہے۔
روسی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر بیک وقت درجنوں ڈرونز اور میزائل داغے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان حملوں کے اہداف کیا تھے اور ان سے کتنا جانی یا مالی نقصان ہوا۔
اسی دوران تل ابیب کی فضائی صورتحال براہ راست نشر کرنے والے کیمرے کو اچانک نیچے کر کے سڑک کا منظر دکھایا جانے لگا، جب شہر کی فضا میں ایرانی میزائلوں کے داخل ہونے کی گرج دار آوازیں سنائی دینے لگیں۔
امریکا کے 72 گھنٹوں میں 200 اہداف پر حملے
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران امریکا نے ایران میں بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایران کے 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کاپر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بی ٹو بمبار طیاروں نے گہرائی میں موجود بیلسٹک میزائل لانچرز کو تباہ کرنے کے لیے درجنوں بنکر بسٹر بم استعمال کیے۔ ان حملوں میں بیلسٹک میزائلوں کے ذخائر اور 30 سے زائد بحری جہاز بھی تباہ کیے گئے ہیں۔
ایڈمرل بریڈ کاپر کا کہنا تھا کہ حملے کے پہلے دن کے بعد ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں میں تقریباً 90 فیصد کمی آچکی ہے۔ آپریشن کے اگلے مرحلے میں ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو نشانہ بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
7 اسرائیلی ڈرون طیارے تباہ
دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ا اپنے ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے 7 اسرائیلی ڈرون طیارے مار گرائے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق جنگ کے دوران اب تک 500 سے زائد بیلسٹک اور کروز میزائل فائر کیے جا چکے ہیں جبکہ مختلف اقسام کے 2 ہزار سے زائد ڈرون بھی استعمال کیے گئے ہیں۔
ایرانی فوج کے مطابق فائر کیے گئے میزائلوں میں سے تقریباً 60 فیصد امریکی افواج کو جبکہ 40 فیصد اسرائیلی علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے۔
حزب اللہ کا اسرائیل پر راکٹ حملوں کا دعویٰ
ادھر لبنانی تنظیم حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹ حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق حزب اللہ کے راکٹ حملوں کے بعد شمالی اسرائیل کے کئی علاقوں میں سائرن بجنے لگے اور شہریوں کو فوری طور پر شیلٹرز میں جانے کی ہدایت کی گئی۔
حیفہ اور تبریاس سمیت متعدد علاقوں میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی جبکہ ایک مقام پر راکٹ کے ملبے سے گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں کارروائی کی گئی ہے۔
’جنگ کی مدت کا تعین امریکا خود کرے گا‘
اس دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران میں امریکی آپریشن کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اب یہ مشن اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ امریکی افواج ایرانی فضائی اور سمندری حدود میں بتدریج کنٹرول حاصل کر رہی ہیں۔
پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ پاسداران انقلاب کو امریکی فوجی طاقت کے بارے میں غلط اندازہ تھا۔ ایران کو توقع تھی کہ امریکا اس جنگ میں زیادہ آگے نہیں بڑھے گا، تاہم امریکی افواج کے پاس اسلحے کا وسیع ذخیرہ موجود ہے جو مزید کارروائیوں کی اجازت دیتا ہے۔
امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ جنگ کی مدت کا تعین امریکا خود کرے گا اور یہ چار ہفتے، آٹھ ہفتے یا اس سے زیادہ بھی جاری رہ سکتی ہے۔
امریکی کمانڈر کے مطابق ایران کی جانب سے کیے جانے والے ڈرون حملوں میں بھی تقریباً 83 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔


















